بین الاقوامی خبریں

یوکرین میں امریکی سیٹ لائٹ استعمال ہوئے تو ان پر حملہ کریں گے: روس کی وارننگ

ماسکو 27اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) یوکرین جنگ میں روس اور امریکہ تنازعہ خلا تک پہنچ گیا۔ روس نے یوکرین جنگ کے حوالے امریکی سیٹ لائٹ کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ جمعرات کو رشیا ٹوڈے ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، روسی وزارت خارجہ نے عندیہ دیا کہ اگر یہ سیٹلائٹس یوکرائن-روسی لڑائیوں میں استعمال کیے گئے، تو ان کو نشانہ بنانے کے لیے جائز اہداف بن سکتے ہیں۔یہ دھمکی اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے دو روز قبل اپنے روسی ہم منصب سرگئی شوئیگو کے ساتھ ایک فون کال میں یوکرین میں جاری جنگ کے دوران بھی امریکی روسی مواصلاتی ذرائع کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا تھا۔قابل ذکر امر یہ ہے کہ تنازعہ کے خلا میں پھیلنے کے امکان کے متعلق پہلے بھی کئی انتباہات جاری کیے گئے تھے۔

اس ماہ کے اوائل میں برطانوی مسلح افواج کے کمانڈر ایڈمرل ٹونی راڈاکن نے خبردار کیا تھا کہ روس مغرب کیخلاف خلا میں جنگ شروع کر سکتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ روسی افواج خلا کے میدان میں بے پناہ صلاحیتوں کی حامل ہیں اور وہ روایتی زمینی لڑائی سے ہٹ کر چاہے پانی کے اندر ہو یا آسمان پر وہ دوسرے محاذوں کا سہارا لے سکتا ہے۔یاد رہے 24 فروری کو یوکرین کی سرزمین پر روسی فوجی آپریشن کے آغاز سے واشنگٹن نے کیف کا ساتھ دیا ہے اور اسے ہتھیاروں، میزائلوں اور دفاعی نظاموں کی مدد فراہم کی ہے۔دوسری طرف ماسکو نے بارہا امریکی فوجی امداد کے ذریعے اپنی سرزمین کی سلامتی کو لاحق خطرات سے خبردار کیا ہے۔

یوکرین میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال روس کی سنگین غلطی ہو گی: بائیڈن

واشنگٹن، 27اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی صدرجو بائیڈن نے روس کو یوکرین کے خلاف جنگ میں ڈرٹی بم یا اس قسم کے کسی دوسرے جوہری ہتھیار کے استعمال کے خلاف سخت انتباہ کیا ہے۔منگل کو روس کے فالس فلیگ آپریشن کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا کہ روس ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کو استعمال کر کے ناقابل یقین حد تک سنگین غلطی کریگا۔ در اصل وہ یہ الزام لگا کر ڈرٹی بم استعمال کرنے کی تیاری کر رہا کہ کہ یوکرین نے اپنے علاقوں میں ان کا استعمال کیا ہے۔صدر بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ میں آپ کو ابھی تک اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ یہ ایک جعلی آپریشن ہے۔ مجھے نہیں معلوم۔ لیکن اگر ایسا ہوا تو یہ یہ فاش غلطی ہوگی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نےکہا تھا کہ یہ تشویش کی ایک وجہ ہے کہ روس نے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ دوسروں ایس اقدامات کے الزام لگاتا ہے کہ جن کی تیاری وہ خود کر رہا ہوتا ہے۔ پیر کے روز، پرائس نے خبردار کیا کہ اگر ماسکو ایسے ہتھیاروں کو استعمال میں لاتاہے تو اس کے نتائج انتہائی گھمبیر نوعیت کے ہوں گے۔اقوام متحدہ میں روس کے سفیر واسیلی نیبنزیا نے پیرکو دیر گئے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کو بھجوائے گئے ایک خط میں، جسے وی او اے نے بھی دیکھا ہے، کہا گیا ہے کہ روس کیف حکومت کی جانب سے ڈرٹی بم کے استعمال کوجوہری دہشت گردی کا ایک فعل تصور کرے گا۔

یوکرین نے ماسکو کے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ وہ اپنی ہی سرزمین پرڈرٹی بم پھوڑنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ یوکرین نے روس پر جواباً الزام لگایا ہے کہ وہ یوکرین میں جوہری مواد سے لیس بم کے استعمال کے خطرے کو یوکرین میں کشیدگی کے پیش منظر کے طور پر بیان کرنے کی سازش کر رہا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے منگل کو بند کمرے کے اجلاس میں ان الزامات پر بحث کی۔

اقوام متحدہ میں برطانیہ کے نائب سفیر جیمز کیریوکی نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم نے اس نجی ملاقات میں کوئی نیا ثبوت نہیں دیکھا اور نہ ہی سنا ہے۔برطانیہ، فرانس اور امریکہ کے وزراء واضح رہے ہیں کہ یہ صاف جھوٹے الزامات ہیں جو ہم روسی فیڈریشن سے سن رہے ہیں۔یوکرین کا عمل واضح اور عیاں ہے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل سٹولن برگ نے بھی روس کے اس الزام کی تردید کی ہے۔

بائیڈن کی اسرائیلی صدر سے ملاقات، ایرانی جوہری مسئلہ پر تبادلہ خیال

واشنگٹن ، 27اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ نے کہا ہے کہ انہوں نے بدھ کو اپنے امریکی ہم منصب جو بائیڈن کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی اور ایران کی جانب سے یوکرین میں استعمال ہونے والے ڈرونز کی روس کو فراہمی کے معاملہ پر بھی بات چیت کی ہے۔ہرتصوغ نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام اور تہران کے اپنے شہریوں پر جبر کے متعلق بھی تبادلہ خیال ہے۔بائیڈن اور ہرتصوغ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان سمندری سرحد کی حد بندی کے لیے طے پانے والی سمجھوتہ پر خوشی کا اظہار کیا اور بائیڈن نے اس مفاہمت کو ایک تاریخی معاہدہ قرار دیا۔

بائیڈن نے ہرتصوغ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اس معاہدہ کیلئے بڑی ہمت درکار تھی۔ اس کے لیے اصولی سفارت کاری اور استقامت کی ضرورت تھی۔بائیڈن نے کہا کہ سمندری سرحدی حد بندی کا معاہدہ دونوں ممالک کو توانائی کے شعبوں کو ترقی دینے کی اجازت دے گا اور اس معاہدہ سے نئی امید اور اقتصادی مواقع پیدا ہونگے۔

خیال رہے اسرائیلی صدر کا دورہ واشنگٹن ایران کی جوہری سرگرمیوں پر تقسیم سے پیدا ہونے والے تناؤ کے پس منظر میں کیا گیا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر معاہدے کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ معاہدہ ایران کو ایک بار پھر بین الاقوامی نگرانی کے تحت لا رہا ہے اور پابندیاں ہٹانے کے بدلہ میں ایران کے پرامن رہنے کی ضمانت دیتا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کی مخالفت کر رہا ہے۔ دونوں صدور کی ملاقات میں یوکرین کے مسئلہ پر بھی بات کی گئی۔ یوکرین میں امریکہ روس کا مقابلہ کرنے میں مغرب نواز ریاست کی مدد کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی قیادت کر رہا ہے۔

کئیف کی درخواستوں کے باوجود اسرائیل تنازع میں براہ راست ملوث ہونے کیلئے آمادہ نہیں اور کہ چکا ہے کہ وہ یوکرین کو گولہ بارود نہیں تاہم وارننگ سسٹم ضرور فراہم کر سکتا ہے۔ ہرتصوغ کا دورہ امریکہ یوکرین جنگ میں ایران کے بڑھتے ہوئے کردار کے بارے میں اسرائیل کے خدشات کو اجاگر کر رہا ہے کیونکہ ایران پر الزام ہے کہ اس کے فراہم کردہ ڈرونز یوکرینی شہریوں پر حملوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ ہرزوگ نے امریکی وزیر خارجہ بلنکن سے بھی ملاقات کی اور کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ کو ایسی معلومات سے آگاہ کیا ہے جو ثابت کرتی ہیں کہ یوکرین کی جنگ میں ایرانی ڈرونز استعمال کئے گئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button