
جیمز بانڈ کی نئی فلم ’نو ٹائم ٹو ڈائی‘ کی نمائش تیسری مرتبہ موخر

ویب ڈیسک
جیمز بانڈ سیریز کی نئی فلم ‘نو ٹائم ٹو ڈائی’ کی عالمی سطح پر نمائش ایک مرتبہ پھر اپریل کے بجائے اکتوبر تک موخر کر دی گئی جس پر فلم کے پروڈیوسرز کا کہنا ہے یہ سینما گھروں کے لیے ایک اور دھچکا ہے جو کورونا کی وباء سے تباہ ہونے والے اپنے کاروبار کو از سر نو جمانے کی کوشش میں ہیں۔
جیمز بانڈ کی ویب سائٹ اور ٹوئٹر فیڈ کے مطابق اس فلم کی عالمی سطح پر نمائش کی نئی تاریح آٹھ اکتوبر مقرر کی گئی ہے۔’نو ٹائم ٹو ڈائی’ جو بین الاقوامی فلم ساز کمپنی ایم جی ایم اور کم کاسٹ کارپوریشن یونیورسل پکچرز نے بنائی ہے اور اس کو گزشتہ برس اپریل میں نمائش کے لیے پیش کیا جانا تھا لیکن کووڈ 19 کی وبا کی وجہ سے اس کی نمائش پہلے نومبر تک کے لیے موخر کی گئی اور پھر اسے اپریل 2021 تک بڑھا دیا گیا تھا۔اس فلم جس کے بنانے پر 20 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی گئی ہے
اس میں برطانوی اداکار ڈینل کریگ آخری مرتبہ فلم کے برطانوی خفیہ ایجنٹ 007 کے مرکزی کردار میں نظر آئیں گے۔جیمز بانڈ 007 کے کردار پر اب تک 25 فلمیں بنائی جا چکی ہیں جو کہ شروع ہی سے دنیا بھر کے فلم بینوں کے لیے خصوصی دلچسپی کا باعث بنتی رہی ہیں اور انھوں نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔سینیما مالکان کا خیال ہے کہ ‘نو ٹائم ٹو ڈائی’ ایک ایسی فلم ہے جس سے فلم شائقین کو دوبارہ سینیما گھروں میں کھینچ لانے میں مدد ملے گی۔
covid 19 نے سنہ 2020 میں فلمی صنعت کو تقریباً برباد کر کے رکھ دیا ہے۔
امریکہ اور کینیڈا میں فلم کے ٹکٹوں کی فروخت 80 فیصد تک گر گئی۔ اس کی وجہ سے سینیما گھروں کے مالکان اور اے ایم سی انٹرٹینمنٹ، سینی ورلڈ اور سینی مارک ہولڈنگ جیسی بڑی بڑی کمپنیاں جن کے دنیا بھر میں سینیما ہال ہیں بری طرح متاثر ہوئیں۔
امریکہ کی فلمی صنعت کی بڑی لاس اینجلس مارکیٹ اب بھی کووڈ کے خطرے سے باہر نکل نہیں پائی ہے اور اسی خطرے کے پیش نظر امریکہ کی فلمی صنعت ہالی وڈ اپنی بڑے بجٹ کی فلمیں نمائش کے لیے جاری کرنے سے ہچکچا رہی ہیں۔بہت سے سینیما گھر بند پڑے ہیں لیکن جو کھلے بھی ہیں ان میں سماجی فاصلے برقرار رکھنے کی خاطر گنجائش سے بہت کم شائقین کو ٹکٹ فروخت کیے جا رہے ہیں۔تھیٹر ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ یہ خبر یقیناً مایوس کن ہے۔
لیکن یہ قطعی غیر متوقع نہیں ہے۔ اس فلم میں فرانسیسی اداکارہ لیا سدو اور رمی ملک بھی اپنی اداکاری کے جوہری دکھاتے نظر آئیں گے۔اس ہفتے کے شروع میں فلم ساز ڈینی بوئیل اور سر سٹیو میکوئن نے برطانوی حکومت سے تھیٹر مالکان کے مالی امداد کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ برطانیہ میں سینیما گھر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔



