چین سے جتنا خطرہ آج ہے پہلے کبھی نہیں تھا: جاپانی وزیراعظم
دہائیوں بعد پالیسی میں تبدیلی، جاپان کا نئے میزائل خریدنے کا اعلان
ٹوکیو ،17دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) جاپان نے چین کو اپنی سلامتی کے لیے ’سب سے بڑا خطرہ‘ قرار دینے کے بعد اپنی دفاعی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی منظوری دے دی ہے۔جاپان کی جانب سے فوجی قوت کے حوالے سے اپنی پالیسی میں یہ تبدیلی کئی دہائیوں بعد سامنے آئی ہے۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جاپان نے 2027 تک سکیورٹی کے اخراجات کو دو فیصد تک بڑھانے، اپنی فوجی کمان کو نئی شکل دینے اور ایسے نئے میزائل حاصل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے جو دشمن کے دور دراز علاقوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
جاپان کے وزیراعظم فومو کیشیدا نے جمعے کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ وہ تاریخ کے اس اہم موڑ پر ملک اور اس کے عوام کے تحفظ اور دفاع کے لیے اپنے مشن میں ثابت قدم رہنے کے لیے پُرعزم ہیں۔انہوں نے یوکرین پر روس کے حملے کو بطور مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے پڑوسی ممالک اور خطے میں جوہری میزائل کی صلاحیتوں میں اضافہ، فوج کی تیزی سے تشکیل، طاقت کے ذریعے یکطرفہ طور پر اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کی کوششیں اور زیادہ واضح ہو گئی ہیں۔
رائے شماری سے معلوم ہوتا ہے کہ جاپان کے عوام بڑی حد تک اس تبدیلی کی حمایت کرتے ہیں تاہم یہ تبدیلی متنازع بھی ہو سکتی ہے کیونکہ جاپان کا دوسری جنگ عظیم کے بعد مرتب کیا گیا آئین سرکاری طور پر فوج کو تسلیم نہیں کرتا۔جمعے کو کابینہ کی جانب سے منظور کردہ تین دفاعی اور سکیورٹی دستاویزات میں بیجنگ کو جاپان کے امن و استحکام کے لیے اب تک کا سب سے بڑا سٹریٹیجک چیلنج قرار دیا گیا ہے۔جاپان کی حکومت مالی سال 2027 تک اپنے دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے دو فیصد تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔جاپانی حکومتیں طویل عرصے سے یہ تجویز کرتی رہی ہیں کہ دشمن کے حملوں کو بے اثر کرنے کے لیے جوابی حملے آئین کے تحت جائز ہوں گے۔تاہم اب چین کی فوجی طاقت میں اضافے اور حالیہ مہینوں میں شمالی کوریا کے میزائل لانچوں کے بعد اب پالیسی تبدیل کی ہے۔
جاپان نے خطے میں ممکنہ خدشات اور یوکرین پر روسی حملے کے انداز میں تائیوان پر چین کے ممکنہ حملے کے پیش نظر مکمل جنگی استعداد کی حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں جاپان 320 ارب ڈالر کی مالیت کے میزائل خریدے گا۔میزائل خریداری کا مقصد چین کو ہٹ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا اور کسی بھی ایسے خطرے کو روکنا ہے جیسا کہ یوکرین پر روسی حملے کی وجہ ہو گیا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ جاپان کا ایک غیر معمولی جنگی بلڈ اپ ہو گا۔جاپان کے اس بڑے فیصلے کے بعد یورپی دنیا کی طرف جنگ پھیلنے کا خدشہ بھی کم ہو جائے گا اور جنگ کے مشرق کی طرف موڑنے کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔
جاپانی وزیر اعظم فومیو کیشیدا نے اس جاپانی حکمت عملی کو جاپان اور اس کے عوام کی طرف سے تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریمپ اپ میری طرف سے سامنے آنے والے بہت سے سیکیورٹی چیلنجز کے لیے جواب ہے۔وزیر اعظم فومیو کیشیدا کی حکومت روس کی طرف سے یوکرین پر حملے کی قائم کردہ مثال کے بعد اس تشویش میں مبتلا ہے کہ اس شہ پا کر چین بھی تائیوان پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ جس سے جاپان کے قریبی جزائر کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح جاپان کے جدید ترین سیمی کنڈکٹرز کی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ حتی کہ سمندری راستہ مشرق وسطیٰ سے انے والے تیل کے لیے مشکل پیدا ہو سکتی ہے۔جاپان کی میری ٹائم سیلف ڈیفنس فورس کے سابق سربراہ یوجی کوڈا نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ تیاری جاپان کے لیے ایک نیا راستہ ہے، اگر اسے اچھے انداز سے نافذ کیا گیا تو جاپان کی فوج بہترین سیلف ڈیفنس فورس بن جائے گی۔



