بین الاقوامی خبریں

پاکستان میں ’غیرمطلوب‘ بچے، قتل تو قتل ہے

۔پاکستان میں سڑک کنارے پھینک دیئے جانے والے ناجائز بچے ناجائز جنسی تعلقات میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں

اسلا م آباد، 19 دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) پاکستان میں غیرمطلوب بچوں کی پیدائش پر انہیں کوڑے کے کسی ڈھیر یا کچرا کنڈی میں پھینکنے کے واقعات تو دیکھنے اور سننے میں آتے رہتے ہے، لیکن کچھ خیراتی ادارے ان بچوں کی زندگی بچانے کا کام انجام دے رہے ہیں۔پاکستان میں غیرمطلوب بچوں کی پیدائش پر انہیں کوڑے کے کسی ڈھیر یا کچرا کنڈی میں پھینکنے کے واقعات تو دیکھنے اور سننے میں آتے رہتے ہے، لیکن کچھ خیراتی ادارے ان بچوں کے والدین کو اس جرم سے بچانے کا متبادل راستہ فراہم کرنے کا کام انجام دے رہے ہیں۔پاکستان میں خیراتی سرگرمیوں کی انجام دہی سے ممتاز مقام حاصل کرنے والی تنظیم ایدھی فائونڈیشن کے مراکز کے باہر ایک گہوارا رکھ دیا جاتا ہے۔

ایسے بچوں کے والدین رات کے اندھیرے میں انہیں اس گہوارے میں چھوڑ جاتے ہیں جہاں سے ایدھی فاؤنڈیشن کا عملہ انہیں پرورش گاہ میں پہنچا دیتا ہے۔ایدھی فاؤنڈیشن نے ملک کے طول و عرض میں ایسے 300 گہوارے فراہم کررکھے ہیں۔ اس تنظیم کے بانی عبدالستار ایدھی نے ایسے رد کیے گئے بچوں کی پرورش کے لیے جھولے کے نام سے اس سلسلے کا آغاز 1952 میں کیا تھا۔ فاؤنڈیشن کے موجودہ سربراہ فیصل ایدھی نے کہاکہ ہمارے اس منصوبے کا مقصد اْن نومولود بچوں کی زندگیاں بچانا ہے جنہیں پہلے کوڑے کے ڈھیروں اور ویران جگہوں پر پھینک دیا جاتا تھا۔‘‘ اسی سلسلے کی پیروی کرتے ہوئے ‘چھیپا ویلفیئر ایسوسی ایشن‘ نے پاکستان میں معاشی سرگرمیوں کے سب سے بڑے مرکز کراچی شہر میں 100 ایسے گہوارے رکھوائے ہیں۔

دیگر خیراتی ادارے بھی ملک کے طول و عرض میں یتیم خانے چلا رہے ہیں لیکن ان کے پاس اتنی تعداد میں رد کیے گئے بچے نہیں پہنچتے جتنے ایدھی فاؤنڈیشن اور چھیپا ویلفیئر ایسوسی ایشن کے پاس آتے ہیں۔پاکستان میں سڑک کنارے پھینک دیئے جانے والے ناجائز بچے ناجائز جنسی تعلقات میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔

اسی طرح جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی کئی خواتین مجبوراً حاملہ ہوجاتی ہیں اور کیونکہ انہیں اسقاط حمل کی سہولیات تک آسان رسائی حاصل نہیں ہوتی، لہٰذا انہیں مجبوری کی حالت میں نومولود سے اپنی جان چھڑانا پڑتی ہے۔ پاکستانی سماج میں غیر شادی شدہ ماؤں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا اور انہیں اسقاط حمل کی اجازت نہیں دی جاتی۔ لہٰذا اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ناجائز بچوں کو یا تو قتل کردیا جاتا ہے یا پھر انتہائی سفاکی کے ساتھ ان کا نام و نشان مٹا دیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button