بین الاقوامی خبریں

اگر روس یوکرین پر جوہری حملہ کرے تو کیا ہو گا؟

سن 1645 میں جاپان پر امریکی جوہری حملے کے بعد سے اب تک جوہری ہتھیار کبھی استعمال نہیں کیے گئے

لندن، 20دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)روسی صدر ولادیمیر پوٹن متعدد مرتبہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دے چکے ہیں جب کہ ایسے میں مغربی ممالک میں یہ بحث جاری ہے کہ ایسی صورت میں کیا ردعمل دکھایا جائے گا۔روسی صدر ولادمیر پوٹن نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ اگ ر روس کی علاقائی خودمختاری خطرے میں پڑی تو وہ جوہری ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ جو ہمیں جوہری ہتھیاروں کے ذریعے بلیک میل کرنے کی کوشش میں ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ہوا ان کی سمت بھی چل سکتی ہے اور یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔تاہم ماہرین یہ ماننے کو تیار نہیں کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کر سکتے ہیں۔ سن 1645 میں جاپان پر امریکی جوہری حملے کے بعد سے اب تک جوہری ہتھیار کبھی استعمال نہیں کیے گئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے متعدد ماہرین سے دریافت کیا کہ اگر روس کی جانب سے جوہری حملہ کیا جاتا ہے، تو ایسی صورت میں کیسے نتائج نکل سکتے ہیں۔مبصرین کے مطابق ماسکو حکومتی ایسی صورت میں ایک یا متعدد ’ٹیکٹیکل‘ جوہری ہتھیار یعنی چھوٹے ایٹم بم کا استعمال کر سکتی ہے۔یہ بات اہم ہے کہ صفر اعشاریہ تین کلوٹن سے سو کلوٹن دھماکا خیز مواد جتنی طاقت والے جوہری بموں کو ٹیکٹیکل بم کہا جاتا ہے۔امریکا کے پاس موجود سب سے بڑا جوہری ہتھیار ایک اعشاریہ دو میگاٹن ہے جب کہ روس نے سن 1961 میں 58 میگاٹن کے جوہری ہتھیاروں کا تجربہ کیا تھا۔ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار میدان جنگ میں محدود پیمانے کی تباہی کا باعث بنتے ہیں جب کہ اسٹریٹیجک ہتھیار بڑی جنگوں میں حتمی کارروائی کے لیے تیار کیا جاتے ہیں۔ یہ بات تاہم اپنی جگہ ہے کہ ‘چھوٹے‘ یا محدو‘ سے مراد کیا لی جاتی ہے۔

امریکہ نے سن 1945 میں ہیروشیما پر جو ایٹم بم گرایا تھا، وہ پندرہ کلوٹن کا تھا، تاہم اس کے تباہ کن اثرات غیرمعمولی تھے۔ماہرین کے مطابق روس کا کسی ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار کا استعمال یوکرین کو خوف زدہ کرنا، ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا یا مذاکرات کی میز پر لانا ہو سکتا ہے اور ساتھ ہی ایسی کسی کارروائی کا مقصد مغربی دنیا کو تقسیم کرنا بھی ہو سکتا ہے۔واشنگٹن میں قائم سی ایس آئی ایسی انٹرنیشنل سکیورٹی پروگرام کے عسکری امور کے ماہر مارک کین کین کے مطابق روس اگلے محاذ پر ایٹم بم گرانے سے اجتناب برتے گا۔کینکین کے مطابق بتیس کلومیٹر علاقہ فتح کرنے کے لیے روس کو بیس چھوٹے جوہری بم درکار ہوں گے، تاہم اتنے چھوٹے علاقے کے لیے جوہری ردعمل تک کاخطرہ مول لینا ایک غیرمنطقی راستہ ہو گا۔

کین کین کے مطابق ایسی کسی پیش قدمی کے لیے ایک چھوٹا بم کافی نہیں ہو گا۔انہوں نے تاہم کہا کہ ایسی صورت میں ماسکو حکومت واضح پیغام دینے اور بڑی تعداد میں انسانی جانوں کے ضیاع سے بچنے کے لیے پانی پر یا یوکرین کی فضا میں جوہری ہتھیار کا استعمال کر سکتی ہے، جس سے پیدا ہونے والی برقناطیسی لہر یوکرین میں الیکٹرونک آلات کو ناکارہ کر سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button