ایک اور کورونا لہر، لاکھوں مریں گے، ماہرین کو اندیشہ
چین نے کوویڈ ۔ 19 کی تحدیدات میں نرمی کئے جانے کے بعد ملک بھر میں کورونا وائرس کے کیسوں میں اضافہ ہونے لگا ہے
بیجنگ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) چین نے کوویڈ ۔ 19 کی تحدیدات میں نرمی کئے جانے کے بعد ملک بھر میں کورونا وائرس کے کیسوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ ملک بھر میں دواخانے مریضوں سے بھرنے لگے ہیں۔ وبائی امراض کے ماہر فیگل ۔ ڈینگ جو ہیلت اکنامسٹ بھی ہیں، اُنھوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے 90 یوم میں زائداز 60 فیصد چین اور کرۂ ارض کی 10 فیصد آبادی کوویڈ سے متاثر ہوجائے گی جس کے نتیجہ میں لاکھوں اموات پیش آسکتی ہیں۔ موجودہ طور پر چین میں شنگھائی ایسا مشہور شہر ہے جو کوویڈ کی لپیٹ میں ہے۔ اِس کے علاوہ بے شمار چھوٹے بڑے چینی شہر اور قصبات بھی کورونا وائرس سے متاثر ہورہے ہیں، یہاں تک کہ چینی دارالحکومت بیجنگ بھی کوویڈ کی لپیٹ میں آنے لگا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین میں وباء کے سبب آئے تحدیدات میں یکایک نرمی کردی گئی جو دانشمندانہ اقدام نہیں ہوا۔ ڈینگ نے سخت الفاظ میں چائنیز کمیونسٹ پارٹی پر تنقید کی اور کہاکہ حکمراں پارٹی کا مقصد شائد یہ ہے کہ جو کوئی متاثر ہوتا ہے تو ہوتا رہے، کوئی بھی مرے۔
حکومتی سطح پر ایسے اقدامات کرنے سے گریز نہیں کیا جائے گا جو صحت عامہ کے لئے مضر ہوتے ہیں۔ حکومت نے شائد معیشت کو نقصان سے بچانے کے لئے کورونا تحدیدات میں نرمی پیدا کردی اور عام زندگی کو قبل ازوقت دوبارہ معمول پر لانے کی کوشش کی جس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ چین کے مختلف حصوں سے اموات کی خبریں بڑھ رہی ہیں۔ آخری رسومات کے لئے ایک ایک دن 200 نعشیں لائی جارہی ہیں۔ بتایا گیا کہ بیجنگ میں آخری رسومات لگاتار انجام دی جارہی ہیں۔ مردہ خانے بھر گئے ہیں۔ نعشوں کو محفوظ رکھنا پڑرہا ہے۔ 24×7 آخری رسومات کا کام چل رہا ہے۔ لگ بھگ ہر وقت نعشوں کو آخری رسومات کو پہونچانے والی گاڑیوں کی مخصوص آوازیں سننے میں آرہی ہیں۔



