بین الاقوامی خبریں

روس سے الحاق کرنے والے چار یوکرینی علاقوں میں صورتحال انتہائی سنگین: صدر پوتن

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ روس سے الحاق کرنے والے چار یوکرینی علاقوں میں صورتحال ’انتہائی سنگین‘ ہے

ماسکو، 21دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ روس سے الحاق کرنے والے چار یوکرینی علاقوں میں صورتحال ’انتہائی سنگین‘ ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ستمبر میں ریفرنڈم کے بعد صدر پوتن نے چار یوکرینی علاقوں کے روس سے الحاق کا اعلان کیا تھا۔صدر ولادیمیر پوتن کی افواج کے پاس کسی بھی علاقے کا مکمل کنٹرول نہیں اور گذشتہ ماہ وہ جنوبی علاقے خیرسن کے دارالحکومت سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی تھیں۔انہوں نے روسی سکیورٹی سروسز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈونیسک، لوگانسک پیپلز ریپبلک، خیرسن اور ژاپوریژیا میں صورتحال انتہائی سنگین ہے۔

روس کے نئے علاقوں‘ میں سکیورٹی سروسز سے صدر پوتن نے کہا کہ ’وہ لوگ جو وہاں رہ رہے ہیں، روس کے شہری ہیں، ان کا انحصار آپ پر ہیں۔پوتن کا بیان ہمسایہ ملک بیلا روس کے دورے کے بعد آیا ہے۔فروری میں بیلاروس نے اپنی سرزمین سے یوکرین پر حملے کی اجازت دی تھی۔یوکرین نے روسی صدر کے دورے سے متعلق کہا ہے کہ بیلاروس کی سرزمین سے ایک اور ممکنہ حملے کا خطرہ ہے تاہم اس کی فوج تیار ہے۔یوکرینی فوج کے جنرل لیفٹنٹ سرگیو نائیف نے کہا ہے کہ وہ روس سے اسلحے کی منتقلی کی قریب سے نگرانی کر رہے ہیں۔

فروری میں روس کے حملے کے بعد لاکھوں شہریوں نے ہمسایہ ممالک کا رخ کیا تھا جبکہ شہر تباہی کا منظر کا پیش کر رہے ہیں۔یوکرین پر حملے کے بعد تقریباً ایک لاکھ روسی آئی ٹی کے ماہرین ملک چھوڑ چکے ہیں۔ڈیجیٹل ڈیویلپمنٹ کے وزیر مکسوت شدائیو کاکہنا ہے کہ ایک بڑی تعداد میں آئی ٹی کے شعبے سے منسلک نوجوان بھی ملک چھوڑ چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button