
ہوائی فائرنگ سے ایئرپورٹ پر کھڑے طیارے زد میں آ گئے
لبنان میں نئے سال کے جشن کے دوران ہوائی فائرنگ سے بیروت اور طرابلس میں تین افراد زخمی ہوئے
بیروت، 3 جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) لبنان میں نئے سال کے جشن کے دوران ہوائی فائرنگ سے بیروت اور طرابلس میں تین افراد زخمی ہوئے جبکہ رفیق ہریری بین الاقوامی ایئرپورٹ (Rafic Hariri International Airport) پر دو مسافر طیاروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔نیوز کے مطابق ایئرپورٹ سے نکلتے ہوئے ایک شخص کے موبائل فون پر ہوائی گولی آ کر لگی جس سے وہ معجزانہ طور پر بچ گیا۔معاشی مشکلات سے دوچار ملک لبنان میں نئے سال کا جشن جوش و خروش سے منایا گیا اور بارودی مواد مہنگا ہونے کے باوجود کئی شہروں میں ہوائی فائرنگ کی گئی۔ہوائی گولی لگنے سے مشرق وسطیٰ کی دو ایئر لائنز کے طیاروں ایئر بس اے 321 اور نیو ایئر کرافٹ کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔سکیورٹی اداروں نے عوامی مقامات اور ایئر پورٹ کے قریب فائرنگ کے خلاف خبردار بھی کیا تھا جبکہ چیک پوسٹس بھی قائم کی تھیں۔
وزیر داخلہ بسام مولوی کے زیرِ نگرانی اضافی سکیورٹی کے حوالے سے اقدامات کیے گئے۔ بسام مولوی نے چیک پوائنٹس کا دورہ کیا اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو ان کی کوششوں اور قربانیوں پر سراہا۔انہوں نے سکیورٹی اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کے قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے سختی سے قانون نافذ کریں۔نئے سال کے جشن سے پہلے ہی وزیر داخلہ نے ہوائی فائرنگ کو جرم قرار دیتے ہوئے اس کا ارتکاب کرنے والوں کو سخت سزا دینے کا وعدہ کیا تھا۔داخلی سکیورٹی فورسز کے دائریکٹریٹ جنرل کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعات میں ملوث افراد کی شناخت کا سلسلہ جاری ہے۔
Two Middle East Airlines Airbus A321neos damaged by bullets fired during the New Year’s celebrations while parked at Beirut International Airport. https://t.co/8VotXyDDlK pic.twitter.com/Rw2O0f1wwz
— Breaking Aviation News & Videos (@aviationbrk) January 1, 2023
ڈائریکٹریٹ جنرل نے عوام سے ان افراد کے متعلق رپورٹ کرنے کا کہا ہے ’جنہوں نے اس مجرمانہ اور غیراخلاقی طریقے سے جشن منانے پر زور دیا جبکہ انہیں معلوم تھا کہ ان کا یہ اقدام سوسائٹی کی حفاظت کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔لبنانی ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ نئے سال کے موقع پر ٹریفک حادثے میں 17 افراد زخمی ہوئے جبکہ لڑائی جھگڑوں کے دوران بھی پانچ افراد کو زخم آئے ہیں۔دوسری جانب اتوار کو اپنے خطبے میں میرونائٹ چرچ کے سربراہ بشارت بطرس الراحی نے اہم نکات پر بات کرتے ہوئے دو سال قبل بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے دھماکوں کی تحقیقات میں رکاوٹ حائل کرنے پر لبنانی سیاستدانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔



