بین الاقوامی خبریں

دُنیا کے سردترین: روسی شہر کا درجہ حرارت منفی 50 ڈگری تک گرگیا

یاقوتسک YAKUTSK شہر کا درجہ حرارت منفی 50 ڈگری سیلسس تک نیچے گر گیا ہے۔

ماسکو ، 16جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) روس کے اکثر علاقوں کو سردی کی شدید لہر نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے جبکہ رواں ہفتے میں یاقوتسک YAKUTSK شہر کا درجہ حرارت منفی 50 ڈگری سیلسس تک نیچے گر گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق روس کے مشرق بعید میں ماسکو سے پانچ ہزار کلومیٹر فاصلے پر واقع کان کنی کے لیے مشہور شہر یاقوتسک کا شمار دنیا کے سردترین شہروں میں ہوتا ہے۔یاقوتسک کی ایک شہری اناستاسیا گروزدیوا دو سکارف، دستانوں کے دو جوڑے پہنے ہوئے تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ آپ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ آپ یا تو اس کے مطابق لباس پہن کر ایڈجسٹ ہوں یا پھر تکلیف کا سامنا کریں۔انہوں نے برفیلی دھند میں ڈھکے شہر کے موسم کے بارے میں مزید کہا کہ ’آپ کو شہر میں سردی محسوس ہی نہیں ہوتی یا شاید صرف آپ کا دماغ ہی آپ کو اس کے لیے تیار کرتا ہے اور آپ کو بتاتا ہے کہ سب کچھ نارمل ہے۔

ایک اور شہری نورگسن سٹاروسٹینا ہیں جنہیں بازار میں منجمد مچھلی فروخت کرنے کے لیے فریج یا فریزر کی ضرورت نہیں پڑتی۔ان کا کہنا ہے کہ اس سردی سے نمٹنے کے لیے کوئی خاص راز نہیں ہے۔ادھر امریکہ اور جاپان میں بھی کئی ہفتوں سے شدید سردی اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔دسمبر 2022 کے آخری ہفتے میں امریکہ میں شدید برف باری سے 50 سے زائد افراد ہلاک ہونے کی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔اس کے علاوہ ٹریفک، ہوائی سفر اور بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا تھا۔اے ایف پی کے مطابق ریاست نیو یارک کے دوسرے بڑے شہر بفیلو کے میئر بائرن براؤن نے کہا تھا کہ سنہ 2022 کے برفانی طوفان کے بارے میں نہ صرف آج ،بلکہ نسلوں تک بات کی جائے گی۔

اس طوفان نے شدت میں 1977 کے تاریخی برفانی طوفان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔حکام نے بتایا کہ ’برف باری سے متاثرہ بفیلو کے علاقے میں امدادی کارکنوں نے گاڑیوں اور برف کے تودوں کے نیچے سے لاشیں برآمد کیں۔دسمبر ہی کے آخر میں جاپان کے شمالی علاقوں میں برف باری سے سینکڑوں گاڑیاں سڑکوں پر پھنس گئی تھیں جس کی وجہ سے ترسیل کا نظام متاثر ہوا، جبکہ 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button