بین الاقوامی خبریں

دُنیا کی معمر ترین شخصیت لوسیل 118 برس کی عمر میں فوت کرگئیں

دنیا کی معمر ترین شخصیت کہلائی جانے والی فرانس کی (French nun Lucile Randon) راہبہ لوسیل راندون  118 برس کی عمر میں چل بسیں

پیرس، 17جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دنیا کی معمر ترین شخصیت کہلائی جانے والی فرانس کی (French nun Lucile Randon) راہبہ لوسیل راندون  118 برس کی عمر میں چل بسیں۔لوسیل راندون کو سسٹر آندرے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ جنگِ عظیم اول کے آغاز سے ایک دہائی قبل 1904 میں جنوبی فرانس میں پیدا ہوئی تھیں۔خبر رساں ادارے کے مطابق لوسیل کے ترجمان نے ان کی موت کی تصدیق کر دی ہے جن کا کہنا ہے کہ لوسیل کی موت بحیرہ روم کے کنارے واقع شہر تولون میں اسی نرسنگ ہوم میں ہوئی ہے جہاں وہ خدمات انجام دیتی رہی تھیں۔سینٹ کیتھرائین نرسنگ ہوم کی ترجمانی پر مامور ڈیوڈ تویلا کا کہنا ہے کہ لوسیل غاندوں کی موت سے یہاں ماحول انتہائی افسردہ ہے لیکن ان کی خواہش تھی کہ وہ اپنے بھائی سے مل سکیں۔ ان کی موت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وہ اسے آزادی سمجھتی تھیں۔لوسیل غاندوں کو طویل عرصے سے یورپ کا سب سے زیادہ عمر کا شخص ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔

ان سے قبل جاپان کی کانے تانا طویل المعر خاتون تھیں جن کا گزشتہ برس 119 برس کی عمر میں انتقال ہوا تھا۔گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے اپریل 2022 میں لوسیل غاندوں کو سب سے طویل عمر شخصیت قرار دیا تھا۔وسیل غاندوں کی پیدائش اسی برس ہوئی تھی جب امریکہ کے شہر نیویارک میں پہلا سب وے کھلا تھا جب کہ یورپ کا مشہور ٹوور ڈی فرانس صرف ایک بار ہی منعقد ہوا تھا۔ان کے تین بھائی تھے۔ مذہبی طور پر وہ ابتدا میں مسیحی فرقے پروٹسٹنٹ سے تعلق رکھتی تھیں۔ 26 برس کی عمر میں انہوں نے کیتھولک فرقہ اختیار کیا۔ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی ابتدائی خوبصورت یادوں میں سے ایک وہ لمحہ ہے جب ان کے دو بھائی جنگ عظیم اول کے خاتمے پر واپس گھرآئے تھے۔

ان کے بقول ایسا بہت کم ہوتاتھا کہ کسی خاندان کے افراد جنگ کے بعد زندہ واپس آئیں ،کیوں کہ اکثر موت کی اطلاع ہی آتی تھی لیکن وہ خوش نصیب تھیں کہ ان کے دونوں بھائی جنگ لڑ کر زندہ واپس آئے تھے۔وہ پیرس میں امیر خاندانوں کے بچوں کی دیکھ بھال کا کام کرتی تھیں اور وہ اس زمانے کو اپنی زندگی کا خوبصورت ترین زمانہ بھی سمجھتی تھیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button