بین الاقوامی خبریں

پوتن کو یقین ہے کہ وہ بالآخر یوکرین پر قبضہ کر لیں گے: سی آئی اے

نیٹو اسلحہ سپلائی کر کے یوکرین جنگ میں حصہ لے رہا ہے: روسی صدر

نیویارک ، 27فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکہ کے انٹیلی جنس ادارے سی آئی اے نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کو یقین ہے کہ وہ اپنی فوجی طاقت کی بدولت بالآخر یوکرین پر قبضہ کر لیں گے۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے CIA سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز William Burns کے ٹی وی انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ پوتن نے نومبر میں ہونے والی ایک اجلاس میں ایک خاص قسم کی مغروری کا مظاہرہ کیا جس سے ان کا وہ یقین ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف یوکرین کو تہہ و بالا کر دیں گے بلکہ ہمارے یورپی اتحادیوں پر بھی قابو پا لیں اور اس کے بعد آخرکار سیاسی معاملات معمول پر آجائیں گے۔

برنز نے کہا کہ انہوں نے پوتن کے بارے میں جو اندازہ لگایا ہے وہ یہی ہے کہ جانی و مالی نقصان کے باوجود جنگ جاری رکھنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔میرے خیال میں پوتن کو اپنی تمام صلاحیتوں پر پورا اعتماد ہے کہ وہ یوکرین پر قبضہ کر لیں گے۔برنز کا یہ بھی کہنا تھا کہ پوتن یوکرین کے معاملے میں امریکہ کی مدد کا بھی درست اندازہ نہیں کر پا رہے اور ان کا خیال ہے کہ امریکی وقتی طور پر توجہ دیتے ہیں اور ہم بالآخر کسی اور مسئلے کی طرف بڑھ جائیں گے۔سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے یہ خیالات ایک ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں کہ جب بائیڈن انتظامیہ کو یہ یقین ہے کہ چین قیادت روس کو مہلک ترین ہتھیار دینے پر غور کر رہی ہے۔

برنز کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک خطرناک اور غیردانشمندانہ قدم ہوگا اس سے دنیا کی دو بڑی معشیتوں کے درمیان تعلقات میں مزید کشیدگی آئے گی۔ اس لیے مجھے امید ہے کہ چین ایسا نہیں کرے گا۔ چین کے صدر شی جنپنگ سنجیدگی سے جنگ کا جائزہ لے رہے ہیں کہ طرح سے آگے بڑھ رہی ہے اور اس سے بے چین دکھائی دیتے ہیں۔انہوں نے پوتن کے غرور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب آمرانہ نظام میں کوئی اپنے رہنما کو چیلنج نہیں کرتا تو بہت بڑی غلطیاں رونما ہوتی ہیں۔

نیٹو اسلحہ سپلائی کر کے یوکرین جنگ میں حصہ لے رہا ہے: روسی صدر

Vladimir Putin
روسی صدر ولادیمیر پوٹن

ماسکو ، 27فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)روسی صدر ولادیمیر پوتن نے نیٹو کے رکن ممالک پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یوکرین تنارع میں کیف کو اسلحہ دے کر اس کا حصہ بن رہے ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ولادیمیر پوتن نے روسیا-1 چینل کو انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ مغرب روس کو توڑنے کی سازش کر رہا ہے۔اتوار کو نشر ہونے والے انٹرویو میں پوتن کا نیٹو ممالک کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’وہ اربوں ڈالروں کے ہتھیار یوکرین بھیج رہے ہیں۔ یہ حقیقت میں (جنگ میں) شرکت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ بالواسطہ طور پر کیف کے جرائم کا حصہ بن رہے ہیں۔روسی صدر نے کہا کہ مغربی ممالک کا ایک ہی مقصد ہے جو سابق سوویت یونین اور اس کے مرکزی حصے روسی فیڈریشن کو توڑنا ہے۔

تب ہی شاید وہ ہمیں مہذب لوگوں کے نام نہاد خاندان میں قبول کریں گے لیکن صرف الگ الگ، ہر حصہ الگ۔ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو ماسکو میں یوکرین پر روس کے حملے کا پہلا برس مکمل ہونے کے موقع پر ایک ریلی سے بھی خطاب کیا تھا۔انہوں نے انٹرویو میں ایک بار پھر ملٹی پولر دنیا کی اہمیت کو دہرایا اور کہا کہ انہیں کوئی شک نہیں کہ ایسا ہو گا۔ ہم کس کے خلاف ہیں؟ اس حقیقت کے خلاف کہ یہ نئی دنیا جو شکل اختیار کر رہی ہے وہ صرف ایک ملک یعنی امریکہ کے مفادات میں تعمیر ہو رہی ہے۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن کا مزید کہنا تھا کہ ’اب جب کہ سوویت یونین کے زوال کے بعد دنیا کو ان کی اپنی مرضی کی شکل میں ڈھالنے کی ان کی کوششیں اس صورت حال کا باعث بنی ہیں، تو ہم اس پر ردعمل ظاہر کرنے کے پابند ہیں۔واضح رہے کہ انڈیا میں ہونے والی جی 20 ممالک کی کانفرنس میں بیشتر نمائندوں نے روس کی یوکرین کے خلاف جنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کی لیکن چین اور روس نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط نہیں کیے۔

روئٹرز کے مطابق گروپ آف ٹوئنٹی اکانومیز (جی 20) کے اجلاس کی میزبانی کرنے والا انڈیا بھی روس یوکرین جنگ کا معاملہ اٹھانے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھا لیکن مغربی ممالک نے اس بات پر اصرار کیا کہ وہ اس کی شدید مذمت سے کم پر راضی نہیں ہوں گے۔ جی 20 اجلاس کے بعد ’چیئر سمری اور نتائج کی دستاویز‘ جاری کی گئی جس کے مطابق یہ اجلاس مکمل اتفاق رائے پر منتج نہیں ہو سکا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button