بین الاقوامی خبریں

نصف خواتین سائنسدان کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی کا شکار: سروے

اپنے کیریئر کے دوران کسی نہ کسی موقع پر کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی کا شکار ہوئی ہیں۔

لندن،17مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)ایک سروے کے مطابق دنیا بھر کی تمام خواتین سائنسدانوں میں سے نصف اپنے کیریئر کے دوران کسی نہ کسی موقع پر کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی کا شکار ہوئی ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک سروے شائع ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے 49 فیصد خواتین سائنسدان نے رپورٹ کیا ہے کہ ان کے ساتھ ذاتی طور پر ہراسانی کا کم از کم ایک واقعہ پیش آیا ہے۔سروے میں کہا گیا ہے کہ 2017 میں ’می ٹو تحریک‘ کے بعد نصف کے قریب کیسز رپورٹ ہوئے۔لوریئل فاؤنڈیشن اور بین الاقوامی ادارے اپسوس پولنگ فرم نے یہ سروے کیا ہے۔ 65 فیصد خواتین کا کہنا ہے کہ ہراسانی نے ان کے کیریئر پر منفی اثر ڈالا ہے۔ پانچ میں سے ایک متاثرہ خاتون نے اپنے ادارے کو ہراسانی کے بارے میں رپورٹ کیا ہے۔

یہ سروے ان خواتین سے ہوا جو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی سمیت مختلف شعبوں میں کام کرتی ہیں۔ وہ دنیا بھر میں 50 سے زیادی سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں اپنے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ 24 فیصد نے سروے میں کہا کہ ’ذاتی یا جنسی زندگی کے بارے میں بھی بار بار سوال پوچھے گئے جو مجھے بے چین کر جاتے۔زیادہ تر ہراسانی کے کیسز خواتین کے کیریئر کے آغاز میں ہوئے۔

نصف خواتین نے کہا کہ انہوں نے اپنے ادارے میں کچھ لوگوں سے گریز کیا جبکہ پانچ میں سے ایک خاتون کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود کو کام کے ادارے میں محفوظ محسوس نہیں کیا۔ 65 فیصد کے قریب جواب دہندگان نے کہا کہ کام کی جگہوں پر جنسی ہراسانی سے نمٹنے کے لیے خاص اقدامات نہیں ہوئے۔ لوریئل فاؤنڈیشن کی رکن الیگزنڈرا پالٹ کا کہنا ہے کہ اس سروے سے تصدیق ہوتی ہے کہ می ٹو تحریک کے بعد سے سائنس کے شعبے میں کوئی زیادہ فرق نہیں پڑا ہے۔لوریئل فاؤنڈیشن جو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے، خواتین سائنسدانوں کی مدد کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button