
یورپی یونین نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کیں
انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے پس منظر میں یہ نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں
لندن، 21مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ایران میں مظاہروں کے دوران انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے پس منظر میں یہ نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ یورپی یونین نے یوکرین کو دو ارب یورو کی مالیت کا گولہ بارود فراہم کرنے کے ایک منصوبے کو بھی منظور کر لیا۔یورپی یونین کے وزراء نے ان ایرانی حکام اور اداروں کے خلاف پابندیوں میں توسیع کی ہے، جن پر ملک میں گزشتہ موسم خزاں سے جاری مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کی حمایت کرنے کا الزام ہے۔
20 مارچ پیر کے روز برسلز میں وزرائے خارجہ اور دفاع کے ہونے والے اجلاس میں یورپی یونین نے ایران کے ایک امام، ایک عالم دین اور تین ججوں کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا۔تہذیب و ثقافت سے متعلق ایران کے ایک اہم پالیسی ساز ادارے سپریم کونسل آف کلچرل ریولیوشن’ پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ یہ ادارہ خواتین کے لباس اور ان کی تعلیم سے متعلق حدود طے کرنے جیسے اصول و ضوابط وضع کرتا ہے۔ایرانی سکیورٹی فورسز مہینوں سے جاری مظاہروں کو روکنے کی کوششوں کرتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مقرر کردہ ایک مبصر نے پیر کے روز ہی کہا کہ ایرانی حکام کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیاں انسانیت کیخلاف جرائم کے مترادف قرار دی جا سکتی ہیں۔گزشتہ برس ستمبر میں پولیس کی حراست میں ایک 22 سالہ کرد خاتون مہسا امینی کی موت کے بعد ملک گیر مظاہرے بھڑک اٹھے تھے، جن کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔



