بین الاقوامی خبریں

امریکی صدر بائیڈن کا کینیڈا کا پہلا دورہ

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کینیڈا کے اپنے پہلے صدارتی دورے میں وزیر اعظم ٹروڈو کے ساتھ متعدد اہم موضوعات پر گفتگو کریں گے

واشنگٹن ،24مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کینیڈا کے اپنے پہلے صدارتی دورے میں وزیر اعظم ٹروڈو کے ساتھ متعدد اہم موضوعات پر گفتگو کریں گے۔ ان میں قومی سلامتی کے خدشات، آب وہوا کی تبدیلی ، تجارت ، مائیگریشن ، یوکرین میں تنازعہ اور ہیٹی میں بد امنی کے موضوعات شامل ہیں۔بائیڈن جمعرات کو کینیڈا کے دارالحکومت کے اپنے پہلے دورے میں وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو سے ملاقات کریں گے اور جمعے کو پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے۔قومی سلامتی کونسل میں اسٹریٹجک کمیو نی کیشنز کے آرڈی نیٹر جان کربی نے کہا کہ اپنے دورے کے دوران بائیڈن دفاع کے اخراجات میں اضافے ، شفاف توانائی کے لیے عالمی مسابقت ، اور خوشحالی اور جامع معیشتوں کے لیے ٹھوس اقدامات پر گفتگو کریں گے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ان موضوعات کی حساسیت واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان قریبی تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان دنیا کی طویل ترین سرحد واقع ہونے کے باوجود ان کے تعلقات خاصے غیر متوازن ہیں۔وڈ رو ولسن کے پبلک پالیسی کے ایک ماہر اور افغانستان ، ارجنٹائن اور میکسیکو کے لیے امریکہ کے سابق سفیر ائرل انتھونی وائن کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسا تعلق ہے جسے اتنی توجہ اوراحترام نہیں ملا جتنی کہ وہ مستحق ہے۔بائیڈن اپنی مدت صدارت کا نصف سے بھی زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد اب اوٹاوا کا دورہ کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے لیے کینیڈا کی سابق سفیر لوئس بلیس کہتی ہیں کہ کینیڈا میں اس وقت اور کئی ہفتوں سے یہ پہلے صفحے کی خبر ہے۔ جب کہ امریکہ میں اس خبر کی کوریج کی حد سے تعلقات کیقدرے غیر مساوی پہلو کی عکاسی ہوتی ہے بہر طور یہ گرمجوش اور مثبت ہیں۔

کینیڈا کے لیے ایک سابق امریکی سفیر گورڈن گیفین نے کہا کہ اب تک گفتگو کے لیے جو موضوعات بتائے گئے ہیں ان کی بنیاد پر میں سمجھتا ہوں کہ بائیڈن کا دورہ دو دن کا نہیں بلکہ تین ہفتوں کاہونا چاہئے تھا۔کینیڈا کے ایک سابق سفارت کار اور کینیڈین گلوبل افئیرز انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ کولن رابرٹسن نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ بائیڈن سیکیورٹی میں تعاون پر زور دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نیٹو کے تحت یہ وعدہ کر چکے ہیں کہ مجموعی قومی پیداوار کا 2 فیصد دفاع پر خرچ کریں گے۔ ہم نے حال ہی میں نیٹو کو جدید تر بنانے کے لیے کچھ سرمایہ کاری کی ہے لیکن ہم سے بہت کچھ اور کرنے کی توقع کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button