سعودی عرب اور جی سی سی کی قرآن کی بے حرمتی کے بعد بڑھتے اسلاموفوبیا پر تشویش
قرآن مجید کے نسخے کی بے حرمتی اور ترکیہ کے پرچم کو نذر آتش کرنے کی مذمت کی
ریاض، 27مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سعودی عرب نے جمعے کو ڈنمارک میں اسلاموفوبک انتہا پسندوں کی جانب سے قرآن مجید کے نسخے کی بے حرمتی اور ترکیہ کے پرچم کو نذر آتش کرنے کی مذمت کی ہے۔نیوز کے مطابق مملکت سمیت اْردن، کویت اور قطر نے انتہا پسندوں کی کارروائیوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات نے خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دی ہے۔انتہائی دائیں بازو کی مسلمان مخالف تنظیم پیٹریاٹرن گار لائیو کے حامیوں نے اسلامو فوبک پیغامات والے بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔ اس نے کوپن ہیگن میں ترکیہ کے سفارت خانے کے سامنے قرآن مجید کے نسخے کی بے حرمتی کی اور ترکیہ کا پرچم نذر آتش کیا جو فیس بک پر نشر کیا گیا۔
ترک اخبار ڈیلی صباح کی رپورٹ کے مطابق، ترکیہ کی وزارت خارجہ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اس کو ’نفرت انگیز جرم‘ قرار دیا ہے۔ترکیہ کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ایسے قابل مذمت اقدامات کو ہرگز قبول نہیں کرے گی۔ وزارت خارجہ نے ڈنمارک کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں اور یقینی بنائیں کہ مزید ایسے واقعات رونما نہ ہوں جن سے معاشرتی ہم آہنگی اور پْرامن بقائے باہمی کو خطرہ ہو۔اردن کی وزارت خارجہ اور تارکین وطن کے ترجمان سنان مجالی نے کہا ہے کہ اس اقدام نے نفرت اور نسل پرستی کو ہوا دی۔ثنان مجالی نے ایک بیان میں کہا کہ قرآن مجید کے نسخے کی بے حرمتی ایک سنگین نفرت انگیز عمل ہے اور اسلاموفوبیا کا مظاہرہ ہے جو تشدد اور دیگر مذاہب کی توہین کو ہوا دیتا ہے اور اس کو آزادی اظہار رائے نہیں سمجھا جا سکتا۔



