کیڑے کے کاٹنے سے پھیلنے والے ’ٹِک وائرس‘ کی برطانیہ میں موجودگی
دنیا کے متعدد ممالک میں ایک کیڑے کے ذریعے پھیلنے والے ’ٹِک وائرس‘ کی برطانیہ میں بھی موجودگی کا انکشاف
لندن،7اپریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)دنیا کے متعدد ممالک میں ایک کیڑے کے ذریعے پھیلنے والے ’ٹِک وائرس tick-virus‘ کی برطانیہ میں بھی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے اور حکام کی جانب سے کوہ پیماؤں اور پہاڑوں پر سائیکل چلانے والے افراد کو احتیاطی تدابیراختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔برطانوی اخبار ’گارڈین‘ کے مطابق برطانیہ میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے متعلق احکامات یارکشائر میں ٹِک وائرس کا کیس سامنے آنے کے بعد جاری کیے گئے ہیں۔’ٹِک‘ دراصل ایک مکڑی نما کیڑے کو کہا جاتا ہے جسے اردو میں ’چچڑی‘ کہا جاتا ہے۔ یہ کیڑا جانوروں اور انسانوں کے خون کو بطور خوراک استعمال کرتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق نزلہ و زکام ٹِک وائرس کی علامات سے ایک ہیں اور یہ وائرس انسان کے اعصابی نظام پر اثر انداز ہوتا ہے۔
tick borne virus ٹِک وائرس کم یاب بیماری ہے جس سے دماغ سوج جاتا ہے اور فوراً طبی امداد نے ملنے کے سبب موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ٹِک وائرس یورپ کے متعدد ممالک میں پایا جاتا ہے لیکن ماہرین صحت ابھی اس بات سے لاعلم ہیں کہ یہ برطانیہ میں کیسے داخل ہوا۔ ’گارڈین‘ کے مطابق ماہرین نے خدشہ طاہر کیا ہے کہ شاید یہ وائرس سکینڈینوین ممالک سے پرندوں کے ذریعے برطانیہ میں داخل ہوا ہے۔یارکشائر میں اس وائرس سے متاثر ہونے والا شخص مکمل طور پر صحتیاب ہو چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس شخص کو چچڑی نے یارکشائر میں کاٹا تھا جس کے بعد انہیں پانچ دنوں تک جسم میں درد اور بخار رہا تھا۔



