بین الاقوامی خبریں

پنٹاگون میں فرضی دھماکہ کی جعلی تصویر سوشل میڈیا پر آئی اور اسٹاک ایکسچینج ہل گیا

پنٹاگان کے باہر دھماکے کی جعلی تصویر، کئی میڈیا چینل نے بریکنگ نیوز چلا دی

پنٹاگون میں فرضی دھماکہ کی جعلی تصویر سوشل میڈیا پرآئی اور اسٹاک ایکسچینج ہل گیا

پنٹاگون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)پنٹاگون میں ہونے والے دھماکے کی ایک جعلی تصویر سوشل میڈیا پر پھیلی اور اس نے چند گھنٹوں میں ہی امریکی سٹاک مارکیٹ کو ہلا کر رکھ ڈالا۔ بعد ازاں امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے واضح کیا گیا کہ اس تصویر میں کوئی صداقت نہیں اور یہ جعلی ہے۔ایجنسی فرانس پریس کے مطابق یہ تصویر جسے متعدد مبصرین نے تخلیقی مصنوعی ذہانت کا نتیجہ قرار دیا نے ایک مرتبہ پھر ان بہت سے مسائل پر روشنی ڈالی دی ہے جو جدید ٹیکنالوجی معاشرے کو لاحق کر سکتی ہے۔اس تصویر کو سوشل میڈیا پر بہت سے اکاؤنٹس نے بھی رپورٹ کیا تھا۔تصویر نے پنٹاگون کو اس کی صداقت کی باضابطہ تردید جاری کرنے پر مجبور کردیا۔

پینٹاگون نے کہا کہ ہمارے آس پاس کوئی دھماکہ نہیں ہوا۔

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ یہ جھوٹی خبر ہے اور پینٹاگون پر آج کوئی حملہ نہیں ہوا۔اے ایف پی کی جانب سے کی گئی تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تصویر شائع کرنے والی پہلی ٹویٹ’’کیو اینون‘‘ کی تشہیر کرنے والے اکاؤنٹ کی تھی اور اس نے پہلے گمراہ کن معلومات شائع کی تھیں، حالانکہ تصویر کا اصل ماخذ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا تھا۔دھماکے کی جعلی تصویر کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ میں چند منٹوں کے لیے کمی واقع ہوئی کیونکہ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس نے جمعہ کو بند ہونے والی قیمت کے مقابلے میں ایک چوتھائی فیصد قیمت کھو دی تھی۔

یہ جعلی تصویر اسی طرح کی دوسری تصاویر کے بعد سامنے آئی جو انٹرنیٹ پر بڑے پیمانے پر گردش کر رہی تھیں جن میں پولیس افسران کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گرفتار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ایک اور ایسی جعلی تصویر میں پوپ فرانسس کو سفید کوٹ پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے۔قابل ذکر ہے مصنوعی ذہانت پیدا کرنے کی تکنیک کی وجہ سے عام لوگ بھی اب لمحوں میں جعلی تصاویر بنا سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے جعلی تصویر بنوانے والے کو فوٹو شاپ جیسے پروگراموں میں مہارت جیسی ضروریات پوری کرنا ہوتی ہیں۔

امریکہ کے محکمہ دفاع پنٹاگان کی عمارت کے باہر دھماکے کی تصویر کو آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی)سے بنائی گئی جعلی تصویر قرار دیا گیا ہے۔ آرٹی فیشل انٹیلی جنس سے تیار اس تصویر کو جہاں روس کے میڈیا اداروں نے شیئر کیا وہیں انڈیا کے نشریاتی ادارے ’ری پبلک ٹی وی‘ نے تو اس پر باقاعدہ تبصرہ بھی کیا۔بعد ازاں روس کے ’آر ٹی‘ اور بھارت کے ’ری پبلک ٹی وی‘ نے اپنی رپورٹس واپس لے لی تھیں۔

آرٹی فیشل انٹیلی جنس سے تیار تصویر پر مبصرین کا کہنا ہے کہ اس تصویر میں جس عمارت کو دکھایا گیا ہے کہ وہ محکمہ دفاع کی عمارت سے مماثلت نہیں رکھتی۔اسی طرح بعض مبصرین نے تصویر میں کئی ایسی چیزوں کی نشان دہی کی جن سے واضح ہوتا ہے کہ یہ تصویر آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے تیار کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button