القادر ٹرسٹ کیس: نیب کی عمران خان سے ایک گھنٹے تک تفتیش
القادر ٹرسٹ کیس چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی
اسلام آباد،23مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)قومی احتساب بیورو (The National Accountability Bureau ) نے القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے پوچھ گچھ کی ہے۔سابق وزیرِ اعظم اور اُن کی اہلیہ منگل کو نیب آفس روالپنڈی پہنچے تھے۔مقامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق نیب نے القادر ٹرسٹ سے متعلق 20 سوالات کے جوابات طلب کیے اور یہ تفتیش ایک گھنٹے تک جاری رہی ہے۔پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے نیب نے عمران خان کو پیشی کے لیے طلب کیا تھا۔سابق وزیرِ اعظم اپنی اہلیہ بشری بی بی کے ہمراہ لاہور میں اپنی رہائش گاہ زمان پارک سے قافلے کی صورت میں اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے۔واضح رہے کہ عمران خان پر القادر ٹرسٹ کے قیام میں اربوں روپے کی کرپشن کا الزام ہے۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے القادر ٹرسٹ کیس چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے۔عمران خان اور بشریٰ بی بی منگل کو لاہور سے اسلام آباد پہنچنے پر سب سے پہلے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے بشریٰ بی بی کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کی تو اس موقع پر ان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ ان کی موکلہ کو کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا ہے۔عدالت نے بشریٰ بی بی کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد ان کی پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض 31 مئی تک ضمانت منظور کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کر دیئے۔واضح رہے کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے حکومتِ پاکستان کو بھیجے جانے والے 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت کا آج آخری روز تھا۔
لاہور ہائی کورٹ نے 23 مئی تک ان کی حفاظتی ضمانت منظور کر رکھی تھی۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ایک مرتبہ پھر پارٹی کی رہنما شیریں مزاری کی اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتاری کی مذمت کی ہے۔انہوں نے منگل کو ایک ٹوئٹ میں کہاکہ شیریں مزاری کی صحت خراب ہے اور انہیں عدالت کی جانب سے ضمانت ملنے کے باوجود دوبارہ گرفتار کر کے اذیت سے گزارنے کا مقصد محض ان کی ہمت توڑنا ہے۔عمران خان کے بقول شیریں مزاری نہیں ٹوٹیں گی کیوں کہ اب تک زندگی میں ان کا جتنے لوگوں سے سامنا ہوا ہے ان میں وہ بیشترسے زیادہ بہادر ہیں۔



