بین الاقوامی خبریں

سمندروں کے نیچے جنگ: چین کا انٹرنیٹ کیبل کی دنیا میں امریکہ سے مقابلہ شروع

اس وقت سمندر پار سے انٹرنیٹ کیبل کے میدان میں فرانس، امریکہ اور جاپان کی کمپنیاں چھائی ہوئی ہیں اور ان کا آپس میں مقابلہ رہتا ہے

لندن،14جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) تقریباً 1.4 ملین کلومیٹر دھاتی فائبرکیبل دنیا کے سمندروں کو عبور کرتی ہے جس کے بعد دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک کو آسانی اور تیز رفتاری سے چلانا ممکن ہوتا ہے۔ اس وقت سمندر پار سے انٹرنیٹ کیبل کے میدان میں فرانس، امریکہ اور جاپان کی کمپنیاں چھائی ہوئی ہیں اور ان کا آپس میں مقابلہ رہتا ہے ،تاہم اب اس میدان میں چین بھی کود پڑا ہے۔چینی حکومت نے اس عالمی منڈی میں کامیابی کے ساتھ قدم رکھ دیا ہے۔اس سے قبل یکے بعد دیگرے امریکی حکومتیں چین کی نقل و حرکت کو منجمد کرنے میں کامیاب رہی تھیں۔ امریکا کو خدشہ تھا کہ کسی تنازع کی صورت میں بیجنگ چینی کمپنیوں کے زیر انتظام اسٹریٹجک اثاثوں کے ذریعے خلل ڈالنے کی کوشش کرسکتا ہے۔

امریکی سرمایہ کاری پر مشتمل بین الاقوامی آبدوز کیبل کے منصوبوں سے معمول کے مطابق روکے جانے کے باوجود چینی کمپنیوں نے مقامی طور پر اور بہت سے اتحادی ممالک کے لیے بین الاقوامی کیبلز بنا کر اپنایا ہے۔فنانشل ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ورلڈ وائڈ ویب کے بنیادی ڈھانچے کی ملکیت اور اسے کنٹرول کرنے کے حوالے سے ایک گہری تقسیم کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔اگرچہ چین کی عالمی کیبل مارکیٹ میں ایک بڑا حریف بننے کی خواہش کو ناکام بنا دیا گیا تھا لیکن وہ اب بھی منافع کمانے کے طریقے تلاش کر رہا ہے۔صنعتی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ چینی سرکاری ٹیلی کام کمپنیوں نے اپنی توجہ ان علاقوں پر مرکوز کرنے کی کوشش کی ہے جہاں ان کا اب بھی تجارتی اور سیاسی اثر و رسوخ ہے۔

دوسری طرف چینی حکومت کے لیے کام کرنے والے ایک شخص نے کہا کہ چین کچھ ایشیائی، افریقی اور لاطینی امریکی ممالک میں پراجیکٹس کی قیادت کرنے کے قابل ہے۔ وہ اس لیے کہ چین کی سرکاری ٹیلی کام کمپنیاں قیمتوں کی جنگ اچھی طرح لڑ سکتی ہیں۔ایشیا میں جہاں بینڈوڈتھ کی مانگ اور اسے لے جانے والی کیبلز دنیا کے بہت سے دوسرے خطوں کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، چائنا ٹیلی کام، چائنا موبائل اور چائنا یونی کام اس وقت کئی بڑے کیبل پروجیکٹس کو لیڈ کر رہی ہیں، ان میں سے دو چین، سنگاپور اور جاپان سے منسلک ہیں۔افریقہ اور یورپ کے ارد گرد چینی بنیادی ڈھانچے کی سلطنت کی تعمیر کئی سالوں سے کامیاب رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button