صوبہ میں گئو رکشا کے نام پر قانون شکنی کرنے والوں پر انتظامیہ نکیل ڈالے:پریانک کھڑگے
عیدالاضحی قریب ہے اور کئی ریاستوں میں مویشی کاروباری ہندوتوا تنظیموں سے خوفزدہ ہیں
بنگلور ،22 جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) عیدالاضحی قریب ہے اور کئی ریاستوں میں مویشی کاروباری ہندوتوا تنظیموں سے خوفزدہ ہیں۔ ایسے ماحول میں کرناٹک حکومت میں وزیر اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے بیٹے پریانک کھڑگے کا ایک انتہائی اہم بیان سامنے آیا ہے۔ انھوں نے بالواسطہ طور پر بجرنگ دل اور گئو رکشکوں کو تنبیہ دیتے ہوئے پولیس افسران سے کہا ہے کہ جو لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اِن ’دَل‘ سے ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ مواخذہ کے بعد جیل میں ڈال دیا جائے۔دراصل عیدالاضحی مسلم طبقہ تزک و احتشام کے ساتھ مناتے ہیں، اس تہوار میں مویشی کی قربانی بھی دی جاتی ہے۔
کئی بار ایسا دیکھا گیا ہے کہ بجرنگ دل اور کچھ دیگر ہندوتوا تنظیموں سے منسلک افراد جانور لے جا رہے کسی بھی شخص کو گئو رکشا کے نام پر پکڑ کر پٹائی کر دیتے ہیں، اور پھر بعض دفعہ موت کے گھاٹ بھی اتار دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بی جے پی حکمراں ریاستوں میں مویشی کاروباری خوف کے سایہ میں اپنا کاروبار چلاتے ہیں۔ خصوصاً بقرعید کے موقع پر بہت سنبھل کر کاروبار کیا جاتا ہے۔
چونکہ کرناٹک میں بجرنگ دل کارکنان بہت سرگرم ہیں اس لیے کانگریس حکومت میں وزیر پریانک کھڑگے نے پولیس افسران کو سخت ہدایت دی ہے کہ وہ گئو رکشا میں شامل لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس افسران کے ساتھ میٹنگ کے دوران پریانک کھڑگے نے بجرنگ دل کارکنان کو بالواسطہ طور پر متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اور کہتے ہیں وہ اِن دَل سے ہیں، انھیں گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے ڈالیں۔ کلبرگی میں ہوئی اس میٹنگ میں کھڑگے نے کہا کہ اگر کوئی خود ساختہ لیڈر ہے اور فرقہ وارانہ ایشوز کے نام پر زہر افشانی کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ میں غیر ضروری فرقہ وارانہ فسادات نہیں چاہتا۔ انھوں نے پولیس افسران سے کہا کہ لائیواسٹاک (مویشی) کے ٹرانسپورٹیشن پر قانون بہت واضح ہے، چاہے وہ شہری سرحد کے اندر ہو یا دیہی علاقہ میں، اگر ان کے پاس صحیح دستاویزات ہیں تو انھیں پریشان نہ کیا جائے۔



