برطانوی نرس لوسی Lucy Letby نے 7 نو زائیدہ بچوں کو کیوں قتل کیا؟
سات نو زائیدہ بچوں کے قتل اور چھ دوسروں کے قتل کی کوشش کا مجرم ٹھہرا دیا گیا
لندن ، 19اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)ایک برطانوی نرس کو، جس نے ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ میں برائی ہوں‘ جمعے کو سات نو زائیدہ بچوں کے قتل اور چھ دوسروں کے قتل کی کوشش کا مجرم ٹھہرا دیا گیا ہے۔نیو انگلینڈ کے شمال مغرب کے ایک ہسپتال میں نو زائیدہ بچوں کے ایک یونٹ میں کام کرنے والی 33 سالہ نرس Lucy Letby کے خلاف یہ فیصلہ مانچسٹر کی کراؤن عدالت میں دس ماہ کے اس مقدمے کے بعد سنایا گیا ہے جس نے اسے برطانیہ کی ایک سب سے بڑی سیرئیل چائلڈ کلر بنا دیا ہے۔اسے کاؤنٹیس آف چیسٹر کے ہسپتال میں پانچ نوزائیدہ لڑکوںاور دو نو زائیدہ بچیوں کو ہلاک کرنے اور دوسرے نو زائیدہ بچوں پر حملوں کا مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔ اس نے یہ وارداتیں اکثر اس وقت کیں جب وہ 2015 اور 2016 میں اس یونٹ میں رات کی شفٹوں میں کام کر رہی تھی۔اسے قتل کی کوششوں کے دو مقدمات میں قصوروار نہیں پایا گیا جب کہ چھ دوسرے مشتبہ حملوں میں جیوری میں اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔
وکلائے استغاثہ نے مقدمے کے دوران جیوری کو بتایا کہ لوسی نوزائیدہ بچوں کے خون میں ہوا انجیکٹ کر تی تھی، ان کے معدوں میں نیسٹو گیسٹرک ٹیوبوں کے ذریعے ہوا یا دودھ داخل کرتی تھی جب کہ وہ رگوں کے ذریعے دی جانے والی خوراک میں انسولین شامل کر دیتی تھی اور ان کی سانس لینے والی ٹیوبوں میں بھی مداخلت کرتی تھی۔گرفتاری کے بعد اس کے گھر کی تلاشی لینے والے پولیس افسروں کو ہاتھ سے لکھا ہوا ایک رقعہ ملا جس پر لکھا تھاکہ میں نے انہیں دانستہ طور پر ہلاک کیا ہے کیوں کہ میں ان کی دیکھ بھال کی اہل نہیں ہوں۔اس نے کہ میں ایک خوفناک بری شخص ہوں، میں برائی ہوں، میں نے یہ کیا ہے۔اس نے جن بچوں پر حملے کیے ان میں سے کچھ جڑواں تھے۔ ایک واقعے میں اس نے دونوں کو قتل کر دیا۔
کراؤن پراسیکیوشن سروس کے ایک سینئیر پراسیکیوٹر نے کہا کہ کہ لوسی لیٹبی پر بھروسہ کیاگیا تھا کہ وہ کچھ انتہائی کمزور بچوں کی حفاظت کرے گی۔ اس کے ارد گرد کام کرنے والے یہ بالکل نہیں جانتے تھے کہ ان کے درمیان ایک قاتل موجود ہے۔اس نے مزید کہا کہ لوسی نے اپنی نگہداشت میں موجود بچوں کو بار بار نقصان پہنچانے کے اپنے طریقوں میں تبدیلی کے ذریعے اپنے جرائم کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی۔لوسی کو پیر کے روز سزا سنائی جارہی ہے اور اسے انتہائی طویل قید اور ممکنہ طور پر ایک غیر معمولی تاحیات سزا کا سامنا ہے۔اس کی کارروائیاں اس وقت سامنے آئیں جب سینیئر ڈاکٹروں کو اس بارے میں تشویش ہوئی کہ نو زائیدہ بچوں کے اس یونٹ میں جہاں قبل ا ز وقت پید ا ہونے والے یا بیمار بچوں کا علاج ہوتا تھا، جنوری 2015 سے صرف 18 ماہ میں اتنی زیادہ اموات اور بچوں کو بچانے میں ناکامیاں کیوں ہو رہی ہیں۔جب ڈاکٹروں کوکوئی طبی وجہ نہیں مل سکی تو پولیس کو بلایا گیا۔
پراسیکیوٹر نک جانسن نے بتایا کہ ایک طویل تفتیشی کارروائی کے بعد یہ نشاندہی ہوئی کہ جب بھی کسی واقعے نے بد تر شکل اختیار کی، تو اس وقت بچوں کی نگہداشت پر مامور بد طینت لوسی مستقل طور پر وہاں موجود تھی۔سوشل میڈیا پر لوسی لیٹبی کی تصاویر میں اسے ایک خوش اور مسکراتی ہوئی مصروف زندگی گزارنے والی خاتون کے طور پر پیش کیا گیا تھا، اور ایک فوٹو میں وہ ایک شیر خوار بچے کو جھولا جھلاتی د یکھی گئی تھی۔ لیکن کئی ما ہ تک اس کے خلاف مقدمات کے دوران اکثر اوقات سامنیآنے والے پریشان کن شواہد سے ظاہر ہوا کہ وہ ایک بدترین کینہ پرور قاتل تھی۔جیوری کو بتایا گیا کہ لیٹبی نے کس طرح ایک نو زائیدہ بچی کو چار بار قتل کی کوشش کی اور آخر کار چوتھی بار اسے قتل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ ایک اور واقعے میں جب ایک اورمتاثرہ بچے کی ماں اس وقت کمرے میں داخل ہوئی جب وہ اس کے جڑواں بچوں کو مارنے کی کوشش کر رہی تھی تو، اس نے ماں سے کہا، ”مجھ پر یقین کریں، میں ایک نرس ہوں۔گرفتاری کے بعد سراغ رسانوں کو اس کے گھر سے مقدمے میں شامل بچوں کے حوالے سے تحریری ریکارڈ اور طبی نسخے ملے۔
اس نے مقتول بچوں کے والدین اور خاندانوں کو تلاش کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر سرچز بھی کی تھیں۔لیٹبی کو جب 14 دن کی پیشی کے بعد شواہد دیے گئے تو وہ رونے لگی اور اس نے کہا کہ اس نے کبھی بھی ان بچوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی اور ہمیشہ صرف ان کی دیکھ بھال کی کوشش کی ہے۔ اس نے کہا کہ ان بچوں کی اموات کی ایک وجہ عملے کی غیر معیاری حفاظتی صورتحال اور وارڈ کے ناقص حالات ہو سکتے ہیں۔اس نے کہا کہ میں نے کبھی کسی بچے کو قتل یا ان میں سے کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچایا ہے۔اس نے دعویٰ کیا کہ چار ڈاکٹروں نے یونٹ کی ناکامیوں کا الزام اس پر لگا کر اس کے خلاف سازش کی ہے۔
لوسی نے جیوری کو بتایا کہ اس نے پوسٹ پر یہ پیغام، کہ’’میں برائی ہوں‘‘ اس لیے لکھا تھا کیوں کہ وہ جذباتی ہو گئی تھی اور اسے محسوس ہوا تھا کہ وہ بہر طور نااہل تھی یا اس نے کچھ غلط کیا تھا۔اس کے وکلائے دفاع نے مقدمے کے دوران دلیل دی کہ بچوں کی اموات کی قدرتی وجوہات ہو سکتی ہیں یا ان میں کچھ دوسرے عوامل بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔سراغ رسانوں کا کہنا ہے کہ انہیں لوسی کے گھر سے ایسی کوئی غیر معمولی چیز نہیں ملی جس سے یہ تعین کیا جا سکے کہ وہ ایک قاتل کیسے بنی؟تفتیش کے سر براہ سراغ رساں سپرنٹنڈنٹ Paul Hughes نے کہا کہ صرف ایک ہی شخص اس کا جواب دے سکتا ہے اور وہ ہے خود لوسی لیٹبی۔ بد قسمتی سے میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں کبھی بھی اس بارے میں کچھ پتہ چلے گا جب تک وہ خود ہی ہمیں بتانے کا فیصلہ نہیں کر لیتی۔پراسیکیوشن نے کہا کہ وہ، سرد مہر، ظالم تھی، بے انتہا جھوٹی تھی،جس نے واقعات کے بارے میں اپنا بیان بار بار بدلا اور اس کے تحریری نوٹ کو ایک اعتراف سمجھا جانا چاہیے۔



