بین ریاستی خبریں

عامر خان کے قتل پر 5 کروڑ روپے کے انعام کا اعلان، ایودھیا کے مذہبی رہنما کا متنازع بیان

عامر خان کے قتل پر 5 کروڑ روپے کے انعام کے اعلان سے نیا تنازع

ممبئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان اپنی حالیہ شادی کے بعد مسلسل تنازعات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اب معاملہ صرف تنقید یا احتجاج تک محدود نہیں رہا بلکہ ایودھیا کے ایک مذہبی رہنما نے عامر خان کے قتل پر 5 کروڑ روپے انعام دینے کا اعلان کرکے شدید ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایودھیا کے جگدگرو پرمہنس آچاریہ نے ایک عوامی بیان میں کہا کہ جو شخص عامر خان کو قتل کرے گا اسے 5 کروڑ روپے دیے جائیں گے، جبکہ اس شخص کے قانونی اخراجات بھی وہ خود برداشت کریں گے۔ ان کے اس بیان پر مختلف حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

پرمہنس آچاریہ، جو تپسوی چھاؤنی کے سربراہ ہیں، نے یہ بیان مہاراشٹر کے وزیر نتیش رانے کے ان الزامات کی حمایت میں دیا جن میں عامر خان پر مبینہ طور پر "لو جہاد” کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عامر خان نے ہندو خواتین سے شادیاں اسی مقصد کے تحت کیں، تاہم ان الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

چند روز قبل مہاراشٹر کے وزیر نتیش رانے نے بھی عامر خان کو "لو جہاد کا برانڈ ایمبیسیڈر” قرار دیتے ہوئے ہندو برادری سے اپیل کی تھی کہ وہ اداکار کی فلمیں دیکھنے سے پہلے غور کریں۔ ان کے اس بیان نے بھی سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث چھیڑ دی تھی۔

اس سے قبل بجرنگ دل کے کارکنان بھی عامر خان کی شادی کے خلاف احتجاج کر چکے ہیں۔ مظاہرین نے اداکار کا پتلا نذرِ آتش کیا اور الزام لگایا کہ وہ جان بوجھ کر ہندو خواتین سے شادیاں کرتے ہیں، حالانکہ عامر خان اور گوری اسپرٹ کی شادی دو بالغ افراد کی باہمی رضامندی سے انجام پائی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عامر خان نے رواں ماہ ممبئی کے علاقے باندرہ میں واقع اپنی رہائش گاہ پر گوری اسپرٹ کے ساتھ ایک سادہ رجسٹرڈ تقریب میں شادی کی، جس میں صرف قریبی رشتہ دار اور دوست شریک ہوئے۔ اس سے قبل عامر خان کی شادیاں رینا دتہ اور فلم ساز کرن راؤ سے ہو چکی ہیں۔

عامر خان کے خلاف احتجاج اور سیاسی بیانات کے بعد اب ان کے قتل پر انعام کا اعلان ایک سنگین معاملہ بن چکا ہے۔ کسی بھی شخص کے قتل پر انعام رکھنے اور قاتل کے قانونی اخراجات برداشت کرنے کا اعلان قانون اور عوامی سلامتی کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس معاملے پر اب تک متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button