لندن ، 3اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مبینہ دہشت گرد تنظیم الشباب کے سرکردہ رہنما عبداللہ یارے مشترکہ فضائی حملے میں مارا گیا۔ یہ اعلان صومالیہ حکومت نے کیا ہے۔جنوبی صومالیہ میں دہشت گرد عبداللہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے اور اس پر 3 ملین امریکی ڈالر کا انعام رکھا گیا تھا۔ وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں اس دہشت گرد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔وزارت اطلاعات نے اپنا بیان اتوار کی رات ہی لکھا تھا لیکن اسے پیر کو جاری کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق یکم اکتوبر کو صومالی فوج اور بین الاقوامی سیکورٹی پارٹنرز نے ساحلی شہر حرمکا کے قریب ڈرون حملے کیے جس میں عبداللہ یارے مارا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ شباب گروپ کے سب سے بدنام ارکان میں سے ایک تھا۔وزارت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ڈرون حملے میں مارا جانے والا دہشت گرد عبداللہ یارے شوریٰ کونسل کا سابق سربراہ بھی رہ چکا ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ عبداللہ کا خاتمہ صومالیہ کے ملک کے لیے بڑی راحت کی بات ہے۔عبداللہ ان سات دہشت گردوں میں سے ایک تھا جو 2012 میں امریکہ کو مطلوب تھے۔
امریکہ نے اس پر 3 ملین ڈالر کا انعام بھی رکھا تھا۔حال ہی میں صومالیہ میں کئی مہلک حملے ہوئے۔ اس کے بعد صدر حسن شیخ محمد نے ان دہشت گردوں کے خلاف محاذ کھول دیا تھا اور جنگی بنیادوں پر کام کیا جا رہا تھا۔ حال ہی میں دارالحکومت موغادیشو میں ایک ہوٹل پر حملہ ہوا تھا جس میں 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔صدر حسن شیخ محمد نے گزشتہ ماہ ہی شہریوں سے الشباب کے زیر کنٹرول علاقوں سے دور رہنے کی اپیل کی تھی۔
Hawlgal qorsheysan oo ay iska kaashadeen Ciidamada Qaranka iyo saaxiibadooda caalamiga ah ayaa lagu dilay mid ka mid ah horjoogeyaasha ugu sareeya argagixisada.
Kaas oo lagu magacabo #abdullahi_nadiir Hawlgalkan aya ka dhacay degaanka Xaramka ee Gobalka Jubbada Dhexe 01-10-2022 pic.twitter.com/6Q2rBhXAql
— Ministry of Information, Culture & Tourism (@MOISOMALIA) October 2, 2022



