امریکی مسلم رہنماؤں کا کھلا خط غزہ میں جنگ بندی نہ کرائی تو بائیڈن کو ووٹ نہیں دیں گے
ملک کے لاکھوں مسلمان ووٹرز کو جو بائیڈن کے لیے ووٹ یا فنڈنگ روکنے کے لیے مہم کا آغاز کریں گے
نیویارک، یکم نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ڈیمو کریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے بعض ایکٹویسٹ اور مسلم رہنماؤں نے کہا ہے کہ اگر صدر جو بائیڈن نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے اقدامات نہیں کیے تو وہ ملک کے لاکھوں مسلمان ووٹرز کو جو بائیڈن کے لیے ووٹ یا فنڈنگ روکنے کے لیے مہم کا آغاز کریں گے۔یہ اعلان ڈیمو کریٹک پارٹی کے مسلم حامیوں پر مشتمل نیشنل مسلم ڈیمو کریٹک کونسل کی جانب سے آیا ہے۔ اس کونسل میں مشی گن، اوہائیو، پینسلوینیا جیسی امریکی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے رہنما بھی شامل ہیں جہاں ڈیموکریٹک پارٹی کو سخت انتخابی مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان رہنماؤں نے جنگ بندی کے لیے صدر کو اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کے لیے واشنگٹن ڈی سی کے مقامی وقت کے مطابق منگل کے شام پانچ بجے تک کا وقت دیا ہے۔رائٹرز کے مطابق بائیڈن کی انتخابی مہم کے منتظمین نے تاحال اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔مسلم رہنماؤں نے ’2023 سیز فائر الٹی میٹم‘ کے نام سے کھلے خط میں اعلان کیا ہے کہ وہ مسلم ووٹرز کو فلسطینی عوام پر حملوں کی حمایت کرنے والے امیدواروں کو ووٹ دینے یا ان کی تائید کرنے سے روکنے کے لیے مہم چلائیں گے۔
کونسل نے اپنے خط میں صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کی حکومت نے غیر مشروط حمایت، مالی امداد اور اسلحے کی فراہمی ایسے تشدد کے جاری رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جو شہریوں کے جانی نقصان کا سبب بن رہا ہے۔ ان اقدامات کے باعث آپ پر ماضی میں اعتبار کرنے والے ووٹرز کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔امریکی کانگریس کے پہلے مسلم رکن کیتھ ایلیسن اور انڈیانا سے منتخب ہونے والے مسلم رکنِ کانگریس آندرے کارسن اس تنظیم کے بانی شریک سربراہ ہیں۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ خط عرب اور مسلم امریکی کمیونٹیز میں صدر بائیڈن کی جانب سے سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ میں شروع کیے گئے حملوں کی مذمت نہ کرنے پر بڑھتی ہوئی بے چینی اور برہمی کا اشارہ ہے۔
حماس کے اسرائیل پر حملے سے 1400 افراد ہلاک ہوگئے تھے جب کہ اس کے عسکریت پسندوں نے 239 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔غزہ میں حماس کے زیر کنٹرول صحت کے حکام کے مطابق اسرائیل کے فضائی اور گزشتہ ہفتے شروع کیے گئے زمینی حملوں سے اب تک 8306 فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں جن مین 3457 بچے بھی شامل ہیں۔اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے پیر کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ غزہ پر حملے روکنے کے لیے تیار نہیں۔ امریکہ کی قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ موجودہ حالات میں جنگ بندی سے حماس کو فائدہ ہو گا۔منی سوٹا سے منتخب ہونے والی فلسطینی نژاد امریکی قانون ساز رشیدہ طلیب نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فورم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر 90 سیکنڈ کی ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے۔ اس ویڈیو میں رشیدہ طلیب نے اسرائیل کے حملوں کو فلسطینیوں کی ’نسل کُشی‘ قرار دیتے ہوئے ان کے لیے صدر بائیڈن کی حمایت کی مذمت کی ہے۔اپنی پوسٹ میں انہوں نے مزید لکھا ہے کہ 2024 میں ہمارا ووٹ شمار نہ کیا جائے۔



