دبئی ، 27اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) جزیرہ نما النقب کے بدوین قصبے راھط میں اسرائیلی کنیسٹ کے آئندہ انتخابات کے بارے میں لوگوں میں بے حسی غالب ہے۔ایک ایسے وقت میں انتخابی مہم کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں جب کہ کنیسٹ کے انتخابات کے لیے تین اہم عرب فہرستیں چل رہی ہیں۔ ایسے لگ رہا ہے کہ اسرائیلی کنیسٹ کے انتخابات کے حوالے سے مقامی عرب آبادی میں کوئی خاص دلچسپی سامنے نہیں آئی۔اسرائیل میں ووٹنگ یکم نومبر کو ہو گی۔ ساڑھے تین سال میں اسرائیل میں پانچویں الیکشن ہوں۔
ایمن عودہ کی زیر قیادت ڈیموکریٹک فرنٹ فار پیس اینڈ ایکویلیٹی اور احمد الطیبی کی قیادت میں عرب فار چینج بھی الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہے۔اس کے علاوہ سامی ابو شحادہ کی سربراہی میں ڈیموکریٹک گیدرنگ پارٹی اور منصور عباس کی سربراہی میں یونیفائیڈ لسٹ دی اسلامک موومنٹ بھی انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔راھط کیبلدیہ کے میئر فائز ابو صہیبان جو اسلامی تحریک کے ایک رہ نما ہیں نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ہمارے لیے پہلا مسئلہ یہ ہے کہ کس طرح عرب شہری کو اس کے گھر سے باہر نکال کر پولنگ اسٹیشن تک پہنچایا جائے تاکہ عرب ووٹرز کے ووٹ کا تناسب بڑھایا جا سکے۔
یہ ایک مشکل مسئلہ اور بہت بڑا مخمصہ ہے۔ابو صہیبان نے اپنے خدشے کا اظہار کیا کہ ایک سے زیادہ عرب لسٹ 3.25 فیصد ووٹوں سے نہیں گزرے گی جو اسے ایک ساتھ چار ارکان کے ساتھ کنیسٹ میں داخل ہونے کا اہل بنائے گی۔
اس کے بعد اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے پاس زمینوں پر قبضے اور گھروں کو مسمار کرکے اپنے سیاسی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک وسیع پلیٹ فارم ہوگا۔حالیہ انتخابات میں عرب جماعتوں نے کنیسٹ کی 120 نشستوں میں سے صرف 10 پرکامیابی حاصل کی۔ مشترکہ عرب فہرست کے بعد جس نے 2015 میں 15 نشستیں حاصل کی تھیں عربوں کا اتحاد بکھرگیا۔ اس اتحا میں چار جماعتیں شامل تھیں جو اسرائیل میں عرب آبادی کی نمائندگی کرتی تھیں۔
یونائیٹڈ لسٹ کے سربراہ منصور عباس جو موجودہ پارلیمنٹ میں چار نشستوں پرفائزہیں اسرائیل کی مخلوط حکومت میں شامل ہونے والے پہلے عرب پارٹی رہنما تھے جو یائر لپیڈ اور نفتالی بینیٹ کے درمیان بنیادی اتحاد کے نتیجے میں تشکیل دی گئی تھی۔ اس کا ہدف سابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو اقتدار سے دور رکھنا تھا۔راھط جنوبی اسرائیل کے صحرائے نیگیو میں بدوین کے سب سے بڑے قصبوں میں سے ایک ہے اور اس کے باشندے بنیادی ڈھانچے میں امتیازی سلوک کی شکایت کرتے ہیں اور وہ وسیع تر عرب کمیونٹی کا حصہ ہیں۔
محمود عباس کے فیصلے کیخلاف فلسطینی طبی عملے کا سول نافرمانی کا اعلان
رملہ ، 27اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کے ایک متنازع صدارتی فرمان کے بعد فلسطین کے ڈاکٹرز سنڈیکیٹ نے اس فرمان کیخلاف مکمل اور جامع طبی نافرمانی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے تمام سرکاری، نجی اوردیگر صحت کے اداروں، سہولیات اور نجی کلینکس میں بغیر کسی استثنیٰ کے جمعرات سے صدارتی فیصلے خلاف طبی خدمات کی معطلی کا اعلان کیا ہے۔ احتجاج کرنے والے طبی عملے کا کہنا ہے وہ سول نافرمانی اور احتجاجی بائیکاٹ محمود عباس کے فرمان کی واپسی تک جاری رکھیں گے۔
میڈیکل سنڈیکیٹ القدس سنٹر نے ایک پریس بیان میں اعلان کیا ہے کہ بدھ کو ان ڈاکٹروں سے پیشہ وارانہ سرگرمیوں کی منسوخی اور دستبرداری کا اعلان کیا ہے جن کے نام قانون کے مطابق فیصلے میں سامنے آئے ہیں۔ ان میں نظام نجیب، موسیٰ منصور، نزار حجہ، سعید سراحنہ ،نافذ سرحان، یوسف تکروری، خالد فرحن اور محمد بتراوی شامل ہیں۔ یونین نے تمام شہروں میں کھلے دھرنوں کی تنظیم کا مطالبہ کیا اور بین الاقوامی طبی اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپنے حق میں آواز بلند کرنے کا مطالبہ کیا۔ سنڈیکٹ نے مختلف ممالک کے سفیروں اور ریڈ کراس اور یورپی یونین کے نمائندوں سے احتجاج میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا۔
منتخب کونسل کے متبادل کے طور پر میڈیکل سنڈیکیٹ کے لیے ایک مخصوص حلقہ کونسل تشکیل دینے کے لیے عباس کی طرف سے جاری کردہ قانون کے فیصلے نے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق اور ٹریڈ یونین کی مذمت کی۔انسانی حقوق کے آزاد کمیشن اور شکایات کے بورڈ نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی میڈیکل ایسوسی ایشن کے قیام کے حوالے سے ایک قانونی فیصلہ جاری کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ موجودہ جمہوری طور پر منتخب میڈیکل ایسوسی ایشن کونسل کو اختیارات اور کام سونپے گئے تھے۔اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ قانون کے ذریعے یہ فیصلہ ایک خطرناک نظیر قائم کرتا ہے، کام کی آزادی اور یونین آرگنائزیشن پر حملہ اور اس سے ڈاکٹروں اور حکومت کے درمیان موجودہ بحران مزید گہرا ہونے میں مدد ملے گی۔



