پوٹن کو گرفتار کرنے کا مطلب ہوگا اعلان جنگ: سابق روسی صدر
ابق روسی صدر دمتری میدیدیف Dmitry Medvedev نے متنبہ کیا کہ پوٹن کو بیرون ملک گرفتار کرنے کی کوشش
ماسکو،24مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سابق روسی صدر دمتری میدیدیف Dmitry Medvedev نے متنبہ کیا کہ پوٹن کو بیرون ملک گرفتار کرنے کی کوشش کو اعلان جنگ سمجھا جائے گا۔ اور مثال کے طورپر اگر جرمنی میں انہیں گرفتار کیا گیا تو جرمن پارلیمان روسی میزائلوں کے نشانے پر ہو گا۔بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے گزشتہ ہفتے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیا تھا۔ روس کے سابق صدر دمتری میدیدیف نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ملک نے پوٹن کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو اسے روسی ہتھیاروں کا نشانہ بنایا جائے گا۔سن 2008 سے سن 2012 کے درمیان روسی صدر کے عہدے پر فائز رہنے والے میدیدیف یوکرین پر گزشتہ برس روس کے فوجی حملے کے بعد سے بلند بانگ بیانات دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے کئی مرتبہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔
پوٹن جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے سے علیحدہ میدیدیف نے ٹیلی گرام پر پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو میں کہاکہ امید ہے کہ ایسی صورت حال کبھی پیش نہیں آئے گی، لیکن تصور کیجئے کہ اگر ایسا ہوا۔ مثال کے طورپر جوہری ملک کے موجودہ سربراہ کسی دوسرے ملک کے دورے پر ہوں، مثلاً جرمنی کے دورے پر، اور انہیں گرفتار کر لیا جائے، تو کیا ہوگا؟پوٹن کے حلیف میدیدیف نے کہا کہ یہ روسی فیڈریشن کے خلاف اعلان جنگ ہو گا۔ اور اس صورت میں ہمارے تمام ہتھیار، ہمارے تمام میزائل وغیرہ کا رخ جرمن پارلیمان، جرمن چانسلر کے دفتر کی طرف ہوگا۔میدیدیف کا بیان ایسے وقت آیا ہے جب دو روز قبل ہی روس نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے فیصلے کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے آئی سی سی کے وکیل کریم خان اور اس کے دیگر ججوں کیخلاف جرائم کی تفتیش شروع کی ہے۔آئی سی سی نے پوٹن کے علاوہ روس میں بچوں کے حقوق کی کمشنر ماریہ لووا بیلووا کے خلاف بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیا تھا۔



