بین الاقوامی خبریں

برلن: ایک عمارت میں مسلمانوں، مسیحیوں اور یہودیوں کی عبادت گاہیں

برلن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)برلن کے قلب میں مسلمانوں، مسیحیوں اور یہودیوں کی عبادت گاہوں والی ایک مشترکہ عمارت کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔اس مشترکہ عمارت کی تعمیر کا مقصد باہمی منافرت، شبہات اور تصادم کے امکانات کو دور کرنا ہے۔جرمن دارالحکومت میں مستقبل کی اس عمارت کی خاص بات یہ ہوگی کہ وہاں ایک ہی عمارت کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کی ایک مسجد بھی ہو گی، مسیحیوں کا ایک گرجا گھر بھی اور یہودیوں کا ایک عبادت خانہ بھی۔برسوں تک یہ محض ایک خیال ہی تھا۔

لیکن جمعرات ستائیس مئی کے روز اس خیال نے حقیقت کا روپ دھار لیا۔ مسلمانوں، مسیحیوں اور یہودیوں نے مل کر مستقبل کی ایک ایسی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا، جہاں ان تینوں مذاہب کے پیروکار عبادت کر سکیں گے۔ اس عمارت کا نام ’ہاؤس آف ون‘ رکھا گیا ہے۔ یہ جرمن دارالحکومت برلن کے قلب میں اور شہر کے بعض انتہائی مقبول اور تاریخی علاقوں سے صرف چند ہی منٹ کے فاصلے پر واقع ہو گی۔

اس منصوبے کے رو ح رواں پادری گریگور ہوبرگ نے ’ہاوس آف ون‘ کا سنگ بنیاد رکھے جانے کے بعد کہاکہ یہ برلن کے لیے ایک انتہائی اہم پروجیکٹ ہے۔ یہودی، مسیحی اور مسلمان حتیٰ کہ دہریئے اور دیگر مذاہب کے افراد بھی اس طرح کے ایک مرکز کی ضرورت سے متعلق گزشتہ کم از کم ایک عشرے سے بات کر رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہاکہ اس شہر کو ہاؤس آف ون جیسی جگہ کی ضرورت ہے، جہاں لوگوں کو ایک دوسرے سے مکالمت کا موقع مل سکے۔ یہ ایک انتہائی اہم علامت ہے اور وہ اس جگہ کو ’بیت الامن‘ کہہ سکتے ہیں ۔ ہاؤس آف ون‘ برلن کی سات سو سالہ تاریخ میں ایک اہم اور منفرد عمارت ہوگی۔

یہ جگہ اس مقام کے قریب ہے، جہاں سے شہر شروع ہوتا ہے اور جہاں کبھی سینٹ پیٹرز چرچ ہوا کرتا تھا۔ تیرہویں صدی میں تعمیر کردہ اس کلیسا کا مینار برلن کا بلند ترین مینار تھا۔ وقت کی مار کے باوجود یہ ایک عرصے تک اپنی جگہ قائم رہا حتیٰ کہ 1964میں مشرقی جرمن کی کمیونسٹ حکومت نے اسے منہدم کر دیا تھا۔ یہ علاقہ آثار قدیمہ میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں۔

اس کلیسا کی جگہ کے نیچے تین ہزار سے زائد افراد کی باقیات پائی گئی تھیں جب کہ یہاں دیگر کلیساؤں کے آثار بھی موجود ہیں۔اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا، تو اگلے پانچ برسوں میں ہاؤس آف ون کی عمارت تیار ہو جائے گی۔ اس میں ایک کلیسا، ایک سیناگاگ اور ایک مسجد ہو گی، جو ایک مرکزی ہال کے چاروں طرف تعمیر کی جائے گی اور پرامن بقائے باہمی کی علامت کے طور پر کام کرے گی۔

پتھرو ں اور اینٹوں سے تعمیر کی جانے والی یہ عمارت چالیس میٹر بلند ہوگی۔ اس پر 53.3 ملین ڈالر لاگت آئے گی۔ اس رقم کا بڑا حصہ جمع ہو چکا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button