واشنگٹن ،3؍ جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) امریکہ میں جمہوریت کی علامت سمجھی جانے والی عمارت کیپٹل ہل پر گزشتہ برس چھ جنوری کو ہونے والے حملے کی تحقیقات کرنے والی کانگریس کی کمیٹی اس بات پر توجہ مرکوز کر رہی ہے کہ اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو عمارت میں توڑ پھوڑ سے کیوں نہیں روکا۔
کمیٹی یہ جاننے کی بھی کوشش کر رہی ہے کہ بلوائیوں کو پولیس کے ساتھ جھڑپوں سے روکنے کے لیے صدر نے تین گھنٹے سے زیادہ وقت میں کیوں کچھ نہیں کیا۔ یہ ہنگامہ آرائی اس وقت ہو رہی تھی جب کیپٹل ہل میں قانون ساز 2020 کے انتخابات میں صدر ٹرمپ کی ہار کی توثیق کر رہے تھے۔یہ بات کیپٹل ہل پر حملے کی تحقیق کرنے والے کانگریس کے پینل کے چیئرمین بینی تھامسن نے نشریاتی ادارے سی این این کے اسٹیٹ آف دی یونین پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے بتائی۔
انہوں نے کہا کہ نو رکنی تحقیقاتی پینل یہ جاننا چاہتا ہے کہ 187 منٹ کے دوران جب صدر ٹرمپ نے اس سلسلے میں کوئی اقدام نہ اٹھایا تو وہ کیا کر رہے تھے، جب کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس کے باہر ایک کھانے کے کمرے سے ٹیلی ویڑن پر ہنگامہ آرائی کو خود دیکھا۔کانگریس مین تھامسن نے کہا کہ یہ وہ وقت تھا جب ہم اپنی جمہوریت کو کھونے کے خطرناک حد تک قریب پہنچ گئے تھے۔
ریاست وومنگ سے ری پبلکن پارٹی کی طرف سے منتخب ہونے والی نمائندہ لز چینی، جو کہ ٹرمپ کی شدید ناقد ہیں، نے اے بی سی چینل کے دِس ویک شو میں بتایا کہ ٹرمپ فساد کرنے والوں کو پیچھے ہٹنے کا کہہ سکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
چیئرمین تھامسن نے کہا کہ سابق صدر عدالت میں اپنی فون کالز، پیغامات اور دستاویزات کا ریکارڈ دیکھنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جب کہ اس وقت ان کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ، ری پبلکن قانون سازوں اور ان کی انتظامیہ نے ان پر زور دیا تھا کہ وہ ایسا بیان دیں جس میں صدر اپنے آٹھ سو سے زائد حامیوں کو کانگریس کی عمارت سے نکل جانے کا کہیں۔
کانگریس کمیٹی کے چیئرمین تھامسن نے کہا کہ سابق صدر جو کچھ کر رہے ہیں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کا عام طریقہ کار ہے، وہ مقدمہ کرتے ہیں، عدالت جاتے ہیں، تاخیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یقین ہے کہ ان 187 منٹ میں جو کچھ ہوا ہمیں اْس تک رسائی حاصل ہو گی۔
خیال رہے کہ واشنگٹن میں ایک اپیل کورٹ نے فیصلہ دے رکھا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی فسادات اور اس کی منصوبہ بندی سے متعلق کسی بھی دستاویزات کو دیکھنے میں منفرد طور پر اہم دلچسپی رکھتی ہے۔ لیکن ٹرمپ نے سپریم کورٹ سے نچلی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی اپیل کی ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے وقت کے دوران وائٹ ہاؤس کی دستاویزات کو منظر عام پر لانے سے بچایا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ چھ جنوری 2021 کو کیپٹل ہل پر ہنگامہ آرائی ہونے سے قبل ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ کیپٹل پر اپنے پورے زور سے لڑیں تاکہ قانون ساز موجودہ صدر جو بائیڈن کی نومبر 2020 کے الیکشن میں ان کے خلاف کامیابی کی توثیق نہ کر پائیں۔
ہنگاموں میں ملوث اب تک 725 سے زائد افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف قانون کی مختلف خلاف ورزیاں کرنے پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہیں۔ ان خلاف ورزیوں میں کانگریس کی عمارت میں بلا اجازت داخل ہونے کی قانون شکنی سے لے کر پولیس پر حملے جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔



