چین: بیجنگ سمیت مختلف شہروں میں احتجاج میں صدر سے استعفیٰ کا مطالبہ
چین کے دارالحکومت بیجنگ سمیت کئی شہروں میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے صدر شی جن پنگ سے استعفے کا مطالبہ کیا
بیجنگ ،28نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)چین کے دارالحکومت بیجنگ سمیت کئی شہروں میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے صدر شی جن پنگ سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔اتوار کو کرونا پابندیوں کے خلاف مظاہرین نے بیجنگ کی سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی لیکن پولیس نے بزور طاقت مظاہرین کو منتشر کر دیا۔واقعے کے چند گھنٹوں بعد مظاہرین ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر آ گئے اور اس مرتبہ صرف بیجنگ ہی نہیں لگ بھگ سات شہروں میں مظاہرے ہوئے جب کہ درجنوں یونیورسٹی کیمپسوں میں بھی کرونا پابندیوں کے خلاف مظاہرین نے نعرے بازی کی۔بیجنگ میں احتجاج کرنے والے شہریوں نے صدر شی جن پنگ سے اقتدار سے الگ ہونے کے مطالبات کیے۔
چین سے متعلق یہ تاثر عام ہے کہ وہاں اختلافِ رائے کے عوامی اظہار کو دبایا جاتا ہے جہاں بڑے پیمانے پر مظاہرے کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن دہائیوں بعد ملک کے سب سے طاقت ور رہنما اور موجودہ صدر شی جن پنگ کے خلاف احتجاج غیر معمولی واقعہ ہے۔یہ مظاہرے ایسے موقع پر ہو رہے ہیں جب چین میں کرونا وائرس کے کیسیز ایک مرتبہ پھر تیزی سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔ اسی اثنا میں 25 نومبر کو سنکیانگ کی ایک عمارت میں آگ لگنے کے واقعے میں 10 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔متاثرہ عمارت میں اموات سے متعلق الزام عائد کیا جا رہا تھا کہ یہ اموات عمارت میں جزوی طور پر عائد کردہ کرونا پابندیوں کی وجہ سے ہوئی ہیں کیوں کہ وہاں فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع نہیں کیا جا سکے۔ تاہم حکام نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔



