صحت اور سائنس کی دنیا

ایک کپ پانی -ڈاکٹر امۃ البریرہ فہمیدہ سفیان دہلی

کافی پینے کے فوائد اور نقصانات: روزانہ کافی پینے سے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

کافی دنیا کے مقبول ترین مشروبات میں شمار ہوتی ہے اور کروڑوں افراد اپنے دن کا آغاز ایک گرم کپ کافی سے کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے لیے کافی محض ایک مشروب نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ صبح کی تازگی، کام کے دوران چستی، ذہنی یکسوئی اور طویل اوقات تک بیدار رہنے کے لیے کافی کا استعمال عام ہے۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا روزانہ کافی پینا واقعی صحت کے لیے فائدہ مند ہے یا اس کے کچھ منفی اثرات بھی ہیں؟

ماہرین غذائیت کے مطابق کافی میں موجود کیفین اعصابی نظام کو متحرک کرتی ہے، جس سے جسم اور دماغ کو فوری توانائی حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دفتر میں کام کرنے والے افراد، طلبہ اور کھلاڑی کافی کا استعمال زیادہ کرتے ہیں۔

ایک کپ کافی میں کتنی کیفین ہوتی ہے؟

عام طور پر ایک کپ کافی میں 80 سے 100 ملی گرام کیفین موجود ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک صحت مند بالغ فرد کے لیے روزانہ 400 ملی گرام تک کیفین کا استعمال محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ اس مقدار سے زیادہ کیفین لینے پر مختلف جسمانی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ذیابیطس کے خطرے میں کمی

متعدد طبی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ تین سے چار کپ کافی پینے والے افراد میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ نسبتاً کم ہو سکتا ہے۔ کافی میں موجود کلوروجینک ایسڈ خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھنے میں معاون سمجھا جاتا ہے۔

اگرچہ کافی فائدہ پہنچا سکتی ہے، لیکن صرف کافی پینے سے ذیابیطس سے مکمل تحفظ ممکن نہیں۔ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور صحت مند طرز زندگی بدستور ضروری ہیں۔

کافی کے غذائی اجزا

کافی میں متعدد مفید غذائی عناصر پائے جاتے ہیں جن میں شامل ہیں:

  • وٹامن بی ٹو
  • میگنیشیم
  • پوٹاشیم
  • اینٹی آکسیڈنٹس
  • کلوروجینک ایسڈ

یہ اجزا جسم کو فری ریڈیکلز سے بچانے اور مختلف جسمانی افعال کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

دماغی کارکردگی اور یادداشت میں بہتری

کافی میں موجود کیفین دماغ میں ایسے کیمیائی عوامل پر اثر انداز ہوتی ہے جو تھکن اور غنودگی پیدا کرتے ہیں۔ نتیجتاً انسان خود کو زیادہ چاق و چوبند محسوس کرتا ہے۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق اعتدال کے ساتھ کافی پینے سے:

  • توجہ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
  • یادداشت بہتر ہو سکتی ہے۔
  • ذہنی کارکردگی میں بہتری آ سکتی ہے۔
  • کام کے دوران تھکن کا احساس کم ہو سکتا ہے۔

جسمانی توانائی اور ورزش میں مدد

کھیلوں اور فٹنس کے شعبے سے وابستہ افراد کافی کو توانائی بڑھانے والے مشروب کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ کیفین جسم میں ایڈرینالین کی مقدار بڑھا سکتی ہے، جس سے ورزش کے دوران کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق کافی درج ذیل سرگرمیوں میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے:

  • دوڑنا
  • سائیکل چلانا
  • ایروبک ورزش
  • جم ٹریننگ
  • پٹھوں کی طاقت میں اضافہ

دل کی صحت پر کافی کے اثرات

بعض مطالعات کے مطابق معتدل مقدار میں کافی پینے والے افراد میں دل اور خون کی شریانوں سے متعلق بعض بیماریوں کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔

کافی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس سوزش کو کم کرنے اور خون کی شریانوں کی صحت بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بعض تحقیقات کے مطابق روزانہ تین سے پانچ کپ کافی پینے سے دل کی بیماریوں کے خطرات میں کمی دیکھی گئی ہے۔

الزائمر اور پارکنسن سے ممکنہ تحفظ

عمر بڑھنے کے ساتھ یادداشت کی کمزوری اور دماغی امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کافی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور کیفین دماغی خلیات کی حفاظت میں مدد دے سکتے ہیں۔

بعض سائنسی مطالعات میں کافی کے استعمال کو الزائمر اور پارکنسن جیسے امراض کے کم خطرے سے جوڑا گیا ہے، اگرچہ اس حوالے سے مزید تحقیق جاری ہے۔

مزاج میں بہتری

کافی صرف جسمانی توانائی ہی نہیں بڑھاتی بلکہ مزاج پر بھی مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ کیفین دماغ میں ایسے کیمیائی مادوں کے اخراج کو متحرک کرتی ہے جو خوشی اور اطمینان کے احساس سے وابستہ ہوتے ہیں۔

بہت سے افراد کافی پینے کے بعد خود کو زیادہ پُرسکون، متحرک اور مثبت محسوس کرتے ہیں۔

میٹابولزم اور وزن پر اثرات

کافی میٹابولزم کو تیز کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزن کم کرنے کے متعدد پروگراموں میں کافی یا کیفین کو شامل کیا جاتا ہے۔

تاہم صرف کافی پینے سے وزن کم نہیں ہوتا بلکہ صحت مند غذا اور ورزش بھی ضروری ہیں۔

کافی کے نقصانات

بے چینی اور گھبراہٹ

ضرورت سے زیادہ کافی پینے سے اعصابی نظام پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں:

  • گھبراہٹ
  • بے چینی
  • دل کی دھڑکن میں اضافہ
  • ہاتھوں کا کانپنا

جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

بے خوابی

کافی کا سب سے عام نقصان نیند میں خلل ہے۔ اگر شام یا رات کے وقت کافی پی جائے تو سونے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق کیفین کا اثر کئی گھنٹوں تک برقرار رہ سکتا ہے، اس لیے سونے سے کم از کم 6 سے 8 گھنٹے پہلے کافی سے پرہیز کرنا بہتر ہے۔

ہڈیوں کی کمزوری

بعض مطالعات میں زیادہ کیفین کے استعمال کو ہڈیوں کی کمزوری اور فریکچر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا گیا ہے، خاص طور پر عمر رسیدہ خواتین میں۔

ہائی بلڈ پریشر

اگرچہ اس موضوع پر تحقیق ابھی جاری ہے، تاہم ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو کافی کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے اور اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔

روزانہ کتنی کافی پینی چاہیے؟

صحت کے ماہرین کے مطابق:

  • روزانہ 2 سے 4 کپ کافی اکثر بالغ افراد کے لیے محفوظ سمجھی جاتی ہے۔
  • مجموعی کیفین 400 ملی گرام سے کم رکھنا بہتر ہے۔
  • حاملہ خواتین کو کیفین کا استعمال محدود رکھنا چاہیے۔
  • دل یا بلڈ پریشر کے مریض ڈاکٹر کے مشورے سے کافی استعمال کریں۔

کافی پینے کے صحت مند طریقے

کافی کے فوائد حاصل کرنے کے لیے درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:

  • کافی میں چینی کم استعمال کریں۔
  • شام یا رات کے وقت کافی نہ پئیں۔
  • کافی میں دارچینی شامل کی جا سکتی ہے۔
  • کریم اور میٹھے فلیورز کا زیادہ استعمال نہ کریں۔
  • روزانہ پانی مناسب مقدار میں پئیں۔

کافی دنیا کے مقبول ترین مشروبات میں سے ایک ہے اور اعتدال کے ساتھ اس کا استعمال متعدد صحت بخش فوائد فراہم کر سکتا ہے۔ یہ جسمانی توانائی، ذہنی کارکردگی، دل کی صحت اور میٹابولزم کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم ضرورت سے زیادہ کافی پینے سے بے خوابی، گھبراہٹ، ہائی بلڈ پریشر اور ہڈیوں کی کمزوری جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق متوازن مقدار میں کافی کا استعمال ہی بہترین نتائج فراہم کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button