بین الاقوامی خبریں

ملکہ الزبتھ دوم کاانتقال ، طویل ترین حکمرانی کا آفتاب خاک میں مل گیا

الزبتھ الیگزینڈرا میری ونڈسر (ملکہ الزبتھ کا پورا نام) 21 اپریل 1926 کو لندن میں پیدا ہوئیں۔ان کی پیدائش کے وقت دنیا کی ایک چوتھائی آبادی پر برطانیہ کی حکومت تھی۔ سلطنتِ برطانیہ کی وسعت کے بارے میں گزشتہ صدی کے وسط تک یہ کہا جاتا تھا کہ اس سلطنت میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا۔

لندن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)طویل ترین عرصے تک حکومت کرنے والی برطانوی فرماں روا ں ملکہ الزبتھ دوم جمعرات کو 96 سال کی عمر میں بیلمورل میں انتقال کر گئی ہیں۔ وہ شاہی خاندان میں ہونے والی ایک ڈرامائی تبدیلی کے بعد تخت نشیں ہوئی تھیں۔ان کے چاروں بچے اور پوتے پرنس ولیم بیلمورل پہنچ رہے ہیں۔ پرنس چارلس جو اب کنگ بن گئے ہیں، اپنی شریک حیات کیمیلہ اور کوئین کنسارٹ رات بالمورل گزاریں گے اور جمعے کو لندن روانہ ہوں گے۔ملکہ الزبتھ دوم نے اسی سال اپنی تاج پوشی کی سترویں سالگرہ منائی تھی۔ اور دو دن قبل ہی انہوں نے نو منتخب برطانوی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کی تھی۔

ملکہ کے انتقال کے بعد بکنگھم پیلس پر قومی پرچم سرنگوں کر دیا گیا ہے۔برطانیہ کے شاہی خاندان کی تاریخ مرتب کرنے والوں کے مطابق اپنے بچپن ہی میں الزبتھ کو یہ یقین تھا کہ وہ ملکہ بنیں گی اور اس سے بھی بڑھ کر حیران کن طور پر ان کے دادا اور برطانیہ کے بادشاہ جارج پنجم بھی ان کی تاج پوشی کی پیش گوئی کرچکے تھے۔آنے والے وقت نے نہ صرف یہ پیش گوئی درست ثابت کی بلکہ رواں برس چھ فروری کو الزبتھ دوم نے شاہی حکمرانی کی سات دہائیاں مکمل کیں۔الزبتھ الیگزینڈرا میری ونڈسر (ملکہ الزبتھ کا پورا نام) 21 اپریل 1926 کو لندن میں پیدا ہوئیں۔ان کی پیدائش کے وقت دنیا کی ایک چوتھائی آبادی پر برطانیہ کی حکومت تھی۔ سلطنتِ برطانیہ کی وسعت کے بارے میں گزشتہ صدی کے وسط تک یہ کہا جاتا تھا کہ اس سلطنت میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا۔

جب ملکہ الزبتھ دوم تخت نشیں ہوئیں تو دنیا کے کئی خطوں میں تاجِ برطانیہ کے اقتدار کا سورج غروب ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود وہ رسمی طور پر برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ سمیت کئی ممالک کی سربراہِ ریاست تھیں۔اپنے اس 70 سالہ دورِ حکومت میں ملکہ برطانیہ نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے لیکن اس طویل ترین دورِ حکمرانی کا آغاز ایک اتفاق کا نتیجہ تھا۔برطانیہ کے بادشاہ جارج پنجم کے دوسرے بیٹے جارج ششم کے گھر 21 اپریل 1926 کو جنم لینے والی الزبتھ الیگزینڈرا شاہی خاندان کا حصہ تو ضرور تھیں لیکن اس وقت کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ اپنے عہدِ جوانی ہی میں برطانیہ کے تخت پر براجمان ہوجائیں گی۔ لیکن ایک ڈرامائی تبدیلی نے یہ ممکن بنا دیا۔

الزبتھ کے والد جارج ششم سے پہلے ان کے بڑے بھائی ایڈورڈ ہشتم برطانیہ کے بادشاہ تھے جو 20 جنوری سے 11 دسمبر 1936 تک اس منصب پر براجمان رہے۔ ایڈورڈ ایک طلاق یافتہ امریکی خاتون ویلس وارفیلڈ سمپسن کی محبت میں گرفتار تھے اور ان سے شادی کرنا چاہتے تھے۔برطانیہ میں بادشاہ یا ملکہ چرچ آف انگلینڈ کا سربراہ بھی ہوتا ہے۔ چرچ کے تحت شادی کا رشتہ پوری زندگی کے لیے ہوتا ہے اور طلاق یافتہ افراد کا شریکِ حیات اگر زندہ ہو تو کسی اور سے اس کی شادی نہیں ہو سکتی۔طلاق کے بعد ویلس کے سابق شوہر چوںکہ ابھی زندہ تھے تو اسی بنیاد پر چرچ بادشاہ کے ساتھ ان کی شادی کی مخالفت کررہا تھا۔

شاہی خاندان اور چرچ آف انگلینڈ کی سخت مخالفت کے باوجود ایڈورڈ نے ویلس سے اپنی شادی کا ارادہ ترک نہیں کیا اور اپنی محبت پر تاج و تخت کو قربان کردیا۔ایڈورڈ کے اس فیصلے کے نتیجے میں ان کے چھوٹے بھائی اور الزبتھ کے والد جارج ششم کو برطانیہ کی بادشاہت ملی۔ یہ وہی بادشاہ جارج ہیں جنہیں ہکلاہٹ کی شکایت تھی اور اس پر قابو پانے کے لیے ان کی مستقل مزاجی سے کی گئی کوششوں کو 2010 میں ریلیز ہونے والی فلم ’کنگز اسپیچ‘ میں دکھایا گیا ہے۔جارج ششم کی موت کے بعد 1954 میں صرف 25 برس کی عمر میں الزبتھ ملکہ بنیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اگرچہ اس معاملے پر چرچ کے مؤقف میں نرمی آئی اور 2018 میں شہزاہ ہیری کی طلاق یافتہ امریکی اداکارہ میگھن مرکل سے شادی پر چرچ آف انگلینڈ معترض نہیں ہوا۔

یہ اتفاق ہی کا نتیجہ تھا کہ ان کے والد کے بڑے بھائی نے محبت کی خاطر تاج کو ٹھکرا دیا جس کے بعد بادشاہت پہلے ان کے والد کو ملی اور پھر ملکہ الزبتھ کے حصے میں آئی۔الزبتھ دوم اس دور میں ملکہ بنی تھیں جب برطانیہ 1946 میں ختم ہونے والی دوسری عالمی جنگ کے اثرات سے نکل رہا تھا۔ انہوں ںے اپنے دور میں کئی وزرائے اعظم، صدور، پوپ بدلتے دیکھے۔ سرد جنگ اور پھر سوویت یونین کا انہدام بھی اسی ستر سالہ تاریخ کا حصہ ہے۔انہوں نے برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی اور کرونا کی عالمی وبا سے پیدا ہونے والے غیرمعمولی حالات بھی دیکھے۔ ان ستر برسوں میں دنیا کی سیاست اور سماج میں کئی انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں لیکن وہ نہ صرف اپنے منصب پر برقرار رہیں بلکہ انہیں برطانیہ میں استحکام کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

ماضی میں شاہی فرماں روا اپنی کسی خصوصیت کی بنا پر دیے گئے لقب کی وجہ سے بھی یاد رکھے جاتے ہیں مثلاً برطانیہ میں ولیم فاتح، الفریڈ اعظم وغیرہ۔ شاہی مؤرخ ہیوگو وکرز کا کہنا ہے کہ ملکہ الزبتھ کی زندگی کو دیکھا جائے تو ان کے لیے ’ثابت قدم‘ کا لقب ذہن میں آتا ہے۔ دو جون 1953 کو جب ملکہ الزبتھ کی تاجپوشی ہوئی تو یہ پہلا موقع تھا کہ اس شاہی تقریب کو براہ راست ٹیلی وڑن پر نشر کیا گیا۔رواں برس ملکہ کی تاج پوشی کے 70 برس مکمل ہونے پر لندن سٹی یونیورسٹی میں شاہی تاریخ کی پروفیسر اینا وائٹلوک کا کہنا تھا کہ بادشاہت میں کسی حکمران کی جانب سے حکومت کا تسلسل اور جانشینی کو یقینی بنانا سب سے بڑی کامیابی ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ملکہ ایک کامیاب حکمران ہیں۔

ملکہ انٹرویو نہیں دیتی تھیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی سیاسی موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اپنا موازنہ الزتبھ اول سے کرنے پر ایک بار اپنے کرسمس پیغام میں انہوں نے کہا تھا کہ صاف بات یہ ہے کہ وہ خود کو اپنے عظیم اجداد جیسا محسوس نہیں کرتیں۔ ان کے قریبی مشیر نے ’رائٹرز‘ کو بتایا تھا کہ ملکہ کہا کرتی تھیں کہ ان کے دورِ حکومت سے متعلق تعین کرنا لوگوں کا کام ہے وہ خود اس بارے میں کوئی رائے دینا مناسب نہیں سمجھتیں۔

ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات 18 ستمبرکو ادا کرنے کا اعلان

میڈیا کے مطابق ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات 18 ستمبر کوادا کی جائیں گی۔ جب کہ برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ ملکہ کی میت کی آخری رسومات میں 10 دن لگیں گے۔دنیا کی سب سے مشہور ملکہ اور برطانیہ کی تاریخ میں طویل ترین مدت تک تخت سنبھالنے والی ملکہ الزبتھ دوئم جمعرات کو 96 برس کی عمر میں بالمورل میں واقع اپنے محل میں انتقال کر گئی تھیں۔ ملکہ کی وفات کے بعد تخت کے وارث کے بارے میں بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔لندن کے بکنگھم پیلس پر برطانوی پرچم سرنگوں کیا گیا جہاں شام کے وقت بڑی تعداد میں ہجوم جمع ہوا۔پوری دنیا سے تعزیتی پیغامات موصول ہونا شروع ہوگئے۔ملکہ کے ستر سال کی ریکارڈ مدت تک تخت پر بیٹھنے کے بعد صدیوں پرانے پروٹوکول کے مطابق اس کے بڑے بیٹے 73 سالہ چارلس نے خود بخود اس کی جانشینی اختیار کی۔

بکنگھم پیلس نے اعلان کیا کہ ملکہ جمعرات کی سہ پہر فوت کر گئیں۔اعلان کے جاری ہونے کے فوراً بعد محل کے سامنے موجود ہجوم نے ملکہ کو خراج عقیدت پیش کیا اور بہت سے لوگ تو روتے پائے گئے۔برطانیہ کی نئی وزیر اعظم لز ٹیرس نے کہا کہ آنجہانی ملکہ کی دنیا بھر میں محبت اور تعریف کی جاتی ہے۔ انہوں نے شاہی خاندان سے تعزیت کے دوران نئے بادشاہ کو مخاطب کرتے ہوئے ہز میجسٹی چارلس III۔ کا سرکاری طور پر اعلان کیا گیا اور نئے بادشاہ نے چارلس III” کا نام لیا ہے۔پچیس سال کی عمر میں 1952 میں اپنے والد کنگ جارج ششم سے تخت سنبھالنے کے بعد سے ملکہ الزبتھ نے برطانیہ کی تاریخ میں مختلف بحرانوں اور مراحل سے گزر کر استحکام کی علامت کی نمائندگی کی ہے۔ وہ عالمی سیاست میں نہرو، چارلس ڈی گال اور منڈیلا جیسے عظیم آدمیوں کے ساتھ رہ چکی ہیں۔یہ سب ملکہ کو اپنا دوست کہتے تھے۔

اپنے دور حکومت میں انہوں نے دیوار برلن کی تعمیراور پھر اس کے گرنے کا مشاہدہ کیا۔ ان کے دور بادشاہت میں امریکا میں 12 صدور گذرے۔ملکہ کی آخری تصویر برطانیہ کی پندرہویں وزیراعظم لز ٹرس کے ساتھ لی گئی تھئی۔ تصویروں میں وہ ایک چھڑی پر ٹیک لگائے پتلی اور کمزور دکھائی دے رہی تھیں۔اپنے اقتدار کے ستر سال کے دوران انہوں نے فرض کے غیر متزلزل احساس کے ساتھ اپنا کام کیا اور تمام تر بحرانوں اور مشکل وقتوں کے باوجود اپنی رعایا کی بھرپور حمایت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں۔ملکہ کی صحت تقریباً ایک سال قبل بگڑ گئی تھی اور انہیں ایک سال اسپتال میں گذارنا پڑا۔ اس کے بعد وہ عوامی تقریبات میں دکھائی نہیں دیتی تھیں۔

برطانیہ میں نئے بادشاہ کے تخت پر براجمان ہونے سے کون سی تبدیلیاں وقوع پزیر ہوں گی؟

ملکہ برطانیہ کا ستر سالہ دور ان کے انتقال کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا ہے، مگر بہت ساری تبدیلیوں کی کوشش کے باوجود روایات پسند برطانیہ میں کچھ عرصے تک ملکہ کا سکہ بھی چلتا رہے گا۔ ملکہ الزبتھ دوم کے جمعرات کے روز انتقال کے بعد ان کے بیٹے شہزادہ چارلز اب برطانیہ کے بادشاہ بن چکے ہیں۔ اس لیے برطانوی شاہی آداب کے مطابق اب جہاں جہاں ملکہ کا نام سرکاری دستاویزات میں موجود تھا ان کی جگہ شاہ چارلز کا نام جگہ پالے گا۔بتایا جاتا ہے کہ سب سے اہم تبدیلی برطانیہ کے قومی ترانے میں ہو گی اور یہی وہ تبدیلی ہو گی جو سب سے پہلے اور فوری طور پر ہو گی۔ قومی ترانے میں جہاں جہاں ملکہ کے لیے دعائیہ الفاظ تھے انہیں اب شاہ کے لیے دعائیہ الفاظ میں تبدیل کر دیا جائے گا۔دوسری اہم تبدیلی برطانوی سکوں، کرنسی اور ڈاک کی ٹکٹوں میں ہو گی۔

نئے سکوں پر اب ملکہ برطانیہ کے چہرے کی جگہ شاہ چارلز کا چہرہ دکھایا جائے گا۔ تاہم جو سکے پہلے سے مارکیٹ میں ملکہ الزبتھ دوم کے چہرے کے ساتھ مزین ہیں وہ بھی مارکیٹ میں موجود رہیں گے۔ روایت یہ ہے کہ انہیں کسی شاہی فرمان یا قانون کے تحت بیک جنبش قلم منسوخ نہیں کیا جاتا۔ بلکہ جب تک وہ باقی رہ سکیں رہتے ہیں۔البتہ نئے سکے فوری طور پر شاہی ٹکسال سے بن جائیں گے جن پر شاہ چارلز کی حکمرانی کا اظہار ہو گا اور شاہ چارلز کی ہی تصویر میں سے چہرہ ان سکوں پر دکھایا جائے گا۔ یہ سکے بھی مارکیٹ میں موجود ہوں گے۔

مگر صرف یہی نہیں ہوں گے پرانے سکے بھی اسی طرح چلتے رہیں۔ لیکن نئے سکے شاہ چارس کی تصویر والے اب بنیں گے۔ تاہم 1660 سال سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ سکوں پر بادشاہ یا ملکہ کے صرف چہرے کی تصویر کندہ کی جاتی ہے۔ایک اور تبدیلی جس کا امکان ہے ہر نئے بادشاہ یا ملکہ کے چہرے کی سکوں میں دکھائے جانے والے چہرے کا رخ اپنے پیش رو یا اپنی پیش رو شخصیت سے مخالف سمت میں دکھایا جاتا ہے۔ ملکہ الزبتھ دوم کا چہرہ برطانوی سکوں پر دائیں طرف سے دکھایا گیا تھا ، اس لیے امکان ہے کہ شاہ چارلز کی تصویر بائیں طرف سے دکھائی جائے گا۔

گویا پیش رو اور اور جانشین کا چہرہ مقابل سمت رکھتا ہے۔ لیکن سکے دونوں ہی چلتے رہتے ہیں۔اگلی تبدیلی کرنسی نوٹوں پر ہو گی۔ برطانوی سکوں اور کرنسی نوٹوں کا فرق یہ ہے کہ سکوں پر بادشاہ یا ملکہ کا صرف چہرہ نظر آتا ہے جبکہ کرنسی نوٹوں پر تصویر طبع کی جاتی ہے۔ نئے کرنسی نوٹ اب شاہ چارلز کی تصویر والے ہی ہوں گے مگر ملکہ کے دور کے نوٹ یعنی ملکہ کی تصویر والے نوٹ بھی اسی طرح چلتے رہیں گے۔ڈاک ٹکٹوں پر تصویروں کی تبدیلی بھی کی جائے گی۔ ملکہ کی تصویر والی ٹکٹیں اب طبع نہیں ہوں گی بلکہ شاہ چارلز کی تصویر ڈاک ٹکٹوں پر جاری کی جائے گی، مگر اس معاملے میں بھی روایت یہ ہے کہ پرانی ڈاک ٹکٹوں کو منسوخ نہیں کیا جائے گا۔

بلکہ جب تک وہ موجود ہیں استعمال کی جاتی رہیں اور آہستہ آہستہ ان کی جگہ نئی ڈاک ٹکٹیں لیں گی۔شاہی مونو گرام کی بھی تبدیلی کی جائے گی ، مگر اسی انداز سے وقت کے ساتھ ساتھ اور آہستہ آہستہ۔ نئے مونو گرام اب شاہ چارلز کی مہر سے جاری ہوں گے۔ تاہم پرانے مونوگرام والی دستاویزات بھی قابل قبول ہوں گی۔ یہاں تک کہ پرانے مونو گرام والے پیپر جب تک موجود ہیں کار آمد مانے جائیں گے۔ نیز اب سینئیر وکلا شاہ کے وکلا کہلائیں گے ماضی میں انہیں ملکہ کے وکلا قرار دیا جاتا تھا۔

ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال پر عالمی رہنماؤں کا اظہار افسوس

دنیا بھر کے رہنماؤں نے برطانیہ کی طویل ترین عرصے تک ملکہ رہنے والی الزبتھ دوم کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ الزبتھ دوم 70 سال تک برطانیہ کی ملکہ رہیں۔ رات گئے بکنگھم پیلس کے اعلامیے کے مطابق ملکہ کے صاحبزادے چارلس سوئم نئے بادشاہ ہوں گے۔نیوز کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ قیادت کی ایک مثال تھیں جو تاریخ میں امر رہیں گی۔ ہم دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور دوستی کو مضبوط بنانے میں ان کی کوششوں کو سراہتے ہیں اور ساتھ ہی ان کی اعلیٰ بین الاقوامی حیثیت کو بھی یاد کرتے ہیں۔‘سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ملکہ الزبتھ دوم عظمت حکمت، محبت اور امن کی ایک مثال تھیں۔

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے ملکہ کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ملکہ الزبتھ دوم کے اہل خانہ اور برطانیہ کے لوگوں سے اپنی مخلصانہ تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ وہ متحدہ عرب امارات کی ایک قریبی دوست اور ایک پیاری اور قابل احترام رہنما تھیں جن کا طویل دور حکومت وقار، ہمدردی اور اپنے ملک کی خدمت کے لیے انتھک عزم سے عبارت تھا۔متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کہا کہ ’ہم ملکہ الزبتھ کے انتقال کے سوگ میں دنیا کے ساتھ شامل ہیں جو ایک عالمی آئیکون تھیں جنہوں نے اپنی قوم اور لوگوں کی بہترین خصوصیات کی نمائندگی کی۔ برطانیہ کے لیے ان کی ناقابل یقین زندگی بھر کی خدمت ہماری جدید دنیا میں بے مثال ہے۔

اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم نے اپنے پیغام میں کہا کہ اردن ایک مشہور رہنما کے انتقال پر سوگوار ہے۔ ملکہ الزبتھ دوم سات دہائیوں تک حکمت اور اصولی قیادت کا روشن مینار تھیں۔ وہ اردن کے لیے ایک پارٹنر اور ایک عزیز خاندانی دوست تھیں۔ ہم اس مشکل وقت میں برطانیہ کے عوام اور قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں۔لندن میں سعودی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سعودی عرب کا شاہی سفارت خانہ سعودی عرب کے لوگوں کی جانب سے، ملکہ کے انتقال پر شاہی خاندان اور برطانیہ اور دولت مشترکہ کے لوگوں سے گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے۔ وہ ایک طویل اور ثابت قدم دوست تھیں، انہیں اپنے ملک اور اپنے لوگوں کے لیے ان کی لامتناہی خدمات کے لیے یاد رکھا جائے گا۔

‘برطانیہ کی نو منتخب وزیراعظم لِز ٹرس نے کہا کہ ملکہ الزبتھ دوم وہ چٹان تھیں جس پر جدید برطانیہ بنایا گیا تھا۔ ہمارے ملک نے ان کے دور حکومت میں ترقی کی ہے۔ برطانیہ آج ان کی وجہ سے ہی ایک عظیم ملک ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’ملکہ الزبتھ نے جو میراث چھوڑی ہے وہ برطانوی تاریخ کے صفحات اور ہماری دنیا کی کہانی میں بڑے پیمانے پر نظر آئے گی۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ برطانیہ کی سب سے طویل عرصے تک حکومت کرنے والی سربراہ مملکت کے طور پر ملکہ الزبتھ دوم کو دنیا بھر میں ان کی عظمت اور وقار کے لیے سراہا گیا۔امریکی صدر نے کہا کہ ’ملکہ الزبتھ نے جو میراث چھوڑی ہے وہ برطانوی تاریخ کے صفحات پر نظر آئے گی۔انہوں نے کہا کہ ملکہ الزبتھ دوم اقوام متحدہ کی اچھی دوست تھیں اور انہوں نے دو بار ہمارے نیویارک ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا۔

وہ بہت سے خیراتی اور ماحولیاتی مقاصد کے لیے دل کی گہرائیوں سے پرعزم تھیں۔ انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ ’میں ملکہ الزبتھ دوم کو ان کی غیر متزلزل، زندگی بھر اپنے لوگوں کی خدمت کے لیے لگن کے لیے خراج تحسین پیش کرنا چاہوں گا۔ دنیا ان کی عقیدت اور قیادت کو دیر تک یاد رکھے گی۔روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ’برطانیہ کی حالیہ تاریخ کے سب سے اہم واقعات ملکہ الزبتھ دوم کے نام کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ’ملکہ الزبتھ کے انتقال پر بہت دُکھ ہے۔ پاکستان ان کی موت کے سوگ میں برطانیہ اور دیگر دولت مشترکہ ممالک میں شامل ہے۔ برطانیہ کے شاہی خاندان، عوام اور حکومت سے میری دلی تعزیت ہے۔

‘انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ملکہ الزبتھ دوم کو ہمارے دور کی ایک مضبوط شخصیت کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ انہوں نے اپنی قوم اور لوگوں کو متاثر کن قیادت فراہم کی۔ انہوں نے عوامی زندگی میں وقار اور شائستگی کا اظہار کیا۔‘کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ ملکہ الزبتھ دوم کی کینیڈین شہریوں کے لیے خدمات ہمیشہ ہمارے ملک کی تاریخ کا ایک اہم حصہ رہیں گی۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’وہ غیر معمولی (شخصیت) تھیں۔ دنیا بھر کے لوگوں کو اس وقت اس نقصان کا شدید احساس ہو رہا ہوگا اور نیوزی لینڈ کے لوگ اس غم میں شریک ہیں۔فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے کہا کہ ملکہ الزبتھ دوم نے 70 سالوں سے برطانوی قوم کے تسلسل اور اتحاد کو منظم کیا۔ میں انہیں فرانس کی ایک دوست کے طور پر یاد کرتا ہوں، ایک مہربان ملکہ جس نے اپنے ملک اور اپنی صدی پر دیرپا نقوش چھوڑے ہیں۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اپنے پیغام میں کہا کہ یوکرینی عوام کی جانب سے ہم شاہی خاندان، برطانیہ اور دولت مشترکہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button