
دہلی فسادات: انکت شرما قتل کیس میں طاہر حسین سمیت 5 مجرم قرار، 6 ملزمان بری
انچ ملزمان قصوروار جبکہ چھ کو شواہد نہ ملنے پر بری کر دیا گیا۔
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) 2020 کے دہلی فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے افسر انکت شرما کے قتل سے متعلق اہم مقدمے میں عدالت نے عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر طاہر حسین سمیت پانچ ملزمان کو قصوروار قرار دے دیا، جبکہ شواہد کی بنیاد پر چھ دیگر ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ اس فیصلے کو دہلی فسادات کے سب سے اہم عدالتی فیصلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
عدالت کے فیصلے کے بعد مقتول انکت شرما کے اہل خانہ نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مجرموں کو سخت ترین سزا دیے جانے کی توقع رکھتے ہیں۔ انکت شرما کے بھائی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انصاف کی سمت میں یہ ایک اہم قدم ضرور ہے، تاہم خاندان کے لیے یہ جذباتی لمحہ بھی ہے کیونکہ ان کے عزیز کی کمی کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔
دوسری جانب کیس کی پیروی کرنے والے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر مدھوکر پانڈے نے کہا کہ ایسے مقدمات میں کسی ایک فریق کی جیت نہیں ہوتی بلکہ پورا معاشرہ نقصان اٹھاتا ہے۔ ان کے مطابق ایک خاندان نے اپنا بیٹا کھویا جبکہ سزا یافتہ افراد کے اہل خانہ کو بھی اس فیصلے کے نتائج بھگتنا ہوں گے، اس لیے اسے صرف قانونی انصاف کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
ادھر طاہر حسین کی وکیل تارا نرولا نے عدالت کے فیصلے پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل کو انصاف نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ دفاع نے عدالت کے سامنے اپنے دلائل مؤثر انداز میں پیش کیے، تاہم فیصلے سے اختلاف ہے اور اسے اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ وکیل کے مطابق جن چھ ملزمان کو بری کیا گیا، ان کے خلاف شواہد ناکافی تھے، جسے عدالت نے بھی تسلیم کیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران جب جج نے طاہر حسین کو مجرم قرار دیا تو وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ اس موقع پر ان کے وکیل نے انہیں دلاسہ دیا۔ یاد رہے کہ 2020 میں انکت شرما کے قتل کے وقت طاہر حسین عام آدمی پارٹی کے کونسلر تھے، تاہم مقدمے میں نام آنے کے بعد پارٹی نے انہیں معطل کر دیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے گزشتہ سال آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے ٹکٹ پر اسمبلی انتخابات بھی لڑا تھا۔
اب عدالت کی جانب سے سزا کے تعین کے مرحلے پر سماعت ہوگی، جس کے بعد مجرم قرار دیے گئے افراد کو دی جانے والی سزا کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔



