عمان،18فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اردنی کارکنوں نے سوشل میڈیا پر #Ban_Zionist_Film ہیش ٹیگ کا آغاز کیا گیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا کہ امریکی فلم "Killed on the Banks of the Nile” کی نمائش روکی جائے، جس میں قابض صہیونی اسرائیلی فوج کے ایک سابق فوجی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔فلم کے خلاف ایک آ ن لائن مہم اردن کے سینما گھروں میں فلم کی نمائش کے آغاز کے موقع پر شروع کی گئی تھی جس میں اسرائیلی ریاست کے سابق فوجی گیل گیڈوٹ شریک ہیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پرشہریوں نے اردن میں اس فلم کی نمائش پر پر افسوس کا اظہار کیا جو ان کے بقول اردن کی سماجی بیداری کو متاثر کرنے میں منفی کردار ادا کرے گی۔اردنی آرٹسٹس سنڈیکیٹ کے سربراہ حسین الخطیب نے کہا کہ دشمن میڈیا اور آرٹ کے ذریعے فلسطینی بیانیے کو مسخ کرنے اور فلموں کی تشہیر اور تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔الخطیب نے تمام اردنی اور عرب فنکاروں اور شوبز سے وابستہ افراد سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی کاز کے بارے میں ہمارے تصور کو تبدیل کرنے کے لیے قابض ریاست کی کوششوں کا مقابلہ کریں۔
الجزیرہ چینل کے سابق ڈائریکٹر یاسر ابو ہلالہ نے ٹوئٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ فلم میں قابض فوج میں خدمات انجام دینے والی ایک خاتون فوجی کی موجودگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اس نے ہمارے لوگوں کو قتل کیا اور ہماری مقدسات کی بے حرمتی کی۔ایک ٹویٹ میں، یونین کے کارکن مازن البرماوی نے میڈیا اتھارٹی، وزارت ثقافت، رائل فلم کمیشن سے فلم ڈیتھ آن دی نیل کی نمائش پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔



