
بھوج شالہ-کمال مولا مسجد کیس: سپریم کورٹ نے جمعہ کی نماز کے لیے عارضی طور پر الگ جگہ فراہم کرنے کی ہدایت دی
ہائی کورٹ کے فیصلے پر فوری روک سے انکار، اے ایس آئی کو موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کا حکم، تین ہفتے بعد دوبارہ سماعت ہوگی
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں واقع بھوج شالہ-کمال مولا مسجد کمپلیکس سے متعلق جاری قانونی تنازعہ میں سپریم کورٹ نے اہم عبوری حکم جاری کرتے ہوئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے پر فی الحال روک لگانے سے انکار کر دیا۔ تاہم عدالت نے مسلم فریق کو جزوی راحت دیتے ہوئے ہدایت دی کہ ہر جمعہ دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان نماز کی ادائیگی کے لیے متنازع احاطے سے متصل مناسب کھلی جگہ فراہم کی جائے۔ سپریم کورٹ نے ساتھ ہی آثارِ قدیمہ کے سروے (اے ایس آئی) کو ہدایت دی کہ عدالت کی اجازت کے بغیر کمپلیکس میں کسی بھی قسم کی ساختی تبدیلی نہ کی جائے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے مسلم فریق کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کیے۔ عدالت نے کہا کہ معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے، اس لیے اس کی جلد سماعت کی جائے گی تاکہ قانونی تنازع کا جلد از جلد حل نکالا جا سکے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ نماز کے لیے فراہم کی جانے والی جگہ کا یہ انتظام صرف عبوری (ایڈہاک) بنیاد پر ہوگا اور مقدمے کے حتمی فیصلے سے مشروط رہے گا۔
سماعت کے دوران مسلم فریق کی جانب سے سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد برسوں سے قائم انتظام کو اچانک تبدیل کر دیا گیا اور سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا مناسب موقع بھی نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں مسلمانوں کی مذہبی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، اس لیے ہائی کورٹ کے حکم پر عبوری روک لگائی جانی چاہیے تھی۔
مسلم فریق نے عدالت کو بتایا کہ اس مقام پر تقریباً 800 برس سے جمعہ کی نماز ادا کی جاتی رہی ہے، لیکن حالیہ فیصلے کے بعد یہ سلسلہ رک گیا۔ اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے تمام فریقین کو صبر و تحمل سے کام لینے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں کہی جانے والی ہر بات کو بہت احتیاط سے پیش کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس طرح کے حساس معاملات میں غلط پیغام جانے کا اندیشہ رہتا ہے۔
سینئر وکیل ڈاکٹر ابھیشیک منو سنگھوی نے اپنے دلائل میں کہا کہ تاریخی مذہبی تنازعات کو جذبات کے بجائے آئین اور قانون کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق برطانوی دور کے سرکاری ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھوج شالہ میں طویل عرصے تک نماز ادا کی جاتی رہی، جبکہ بسنت پنچمی اور ہر منگل کو ہندو برادری کی مذہبی رسومات بھی انجام دی جاتی تھیں، جو مذہبی ہم آہنگی کی ایک مثال تھی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے تک سابقہ انتظام برقرار رکھا جائے، تاہم عدالت نے اس مرحلے پر یہ درخواست قبول نہیں کی۔
مسلم فریق کی سینئر وکیل میناکشی اروڑا نے عدالت کو بتایا کہ 1995 میں دونوں فریقوں کے درمیان ایک باہمی انتظام طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں برادریاں پرامن ماحول میں اپنی مذہبی رسومات انجام دیتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طویل عرصے سے جاری انتظام کو اچانک ختم کرنا مناسب نہیں تھا۔
دوسری جانب سالیسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اس کے مطابق اقدامات کیے ہیں اور گزشتہ دو ماہ کے دوران علاقے میں امن و امان برقرار رہا ہے۔ اس پر مسلم فریق کے وکلاء نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ انتظام کو بحال کرنا ممکن ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں 1935 اور 1951 کے بعض تاریخی احکامات کا بھی حوالہ دیا۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ مقدمہ ابھی زیر سماعت ہے اور تمام قانونی، تاریخی اور آئینی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہی حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔ فی الحال عدالت کے عبوری حکم کے مطابق مسلم فریق کو ہر جمعہ متنازع احاطے سے متصل مناسب کھلی جگہ پر نماز ادا کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ اے ایس آئی کو عدالت کی اجازت کے بغیر کمپلیکس میں کسی بھی قسم کی ساختی تبدیلی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔



