دبئی،31؍مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی نے باور کرایا ہے کہ وہ یوکرین میں فوجی آپریشن میں کمی کے حوالے سے روسی وعدوں پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین کی فوج ملک کے مشرق میں نئے معرکوں کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ اس سے قبل روس نے یوکرین کے دارالحکومت کئیف کے اطراف فوجی کارروائیاں روک دینے اور مشرقی علاقے دونباس پر توجہ مرکوز کرنے کا اعلان کیا تھا۔
بدھ کی شام جاری ایک ویڈیو پیغام میں زیلنسکی نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی طرح کی چکنی چپڑی باتوں میں نہیں آئیں گے۔ یوکرین کے کسی بھی علاقے سے روسی افواج کا کوئی ابھی انخلا ہمارا دفاع کرنے والوں کے عمل کا نتیجہ ہو گا۔زیلنسکی کے مطابق ان کا ملک اس وقت آزادی کی خاطر عالمی مزاحمت کا مرکز بن چکا ہے۔ لہٰذا یوکرین عالمی برادری سے ہتھیاروں کی فراہمی کے مطالبے کا حق رکھتا ہے۔
ان میں فوجی ٹینک، طیارے اور توپیں شامل ہیں۔ادھر پینٹاگان نے روس کی جانب سے کئیف کے اطراف فوجی کارروائی روک دینے کے اعلان کو مشکوک قرار دیا۔ امریکی وزارت دفاع کے مطابق بم باری کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور روسی افواج انخلا نہیں بلکہ از سر تعیناتی عمل میں لا رہی ہیں۔
یاد رہے کہ یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کا آج 36 واں روز ہے۔ گذشتہ ماہ 24 فروری کو شروع ہونے والے آپریشن میں ابھی تک بڑی زمینی کامیابیاں یقینی نہیں بنائی جا سکیں۔ روسی افواج یوکرین کے مشرقی حصے کے سوا بڑے شہروں پر ابھی تک مکمل کنٹرول حاصل نہیں کر سکی ہیں۔
یوکرین کا 17,300 فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ
24 فروری کو یوکرین پر حملہ کرنے والی روسی فوج کے 17,300 فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 131 طیارے، 131 ہیلی کاپٹر اور 605 ٹینک تباہ کیے گئے ہیں۔یوکرین کے جنرل اسٹاف نے 24 فروری سے 30 مارچ کے درمیان روسی فوج کے نقصانات کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔ ان معلومات کے مطابق یوکرین پر حملہ کرنے والی روسی فوج کے 17,300 فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 131 طیارے، 131 ہیلی کاپٹر، 605 ٹینک، 1723 بکتر بند گاڑیاں، 305 توپیں، 96 راکٹ لانچ سسٹم اور روسیوں کے 54 فضائی دفاعی نظام تباہ کردیے گئے ہیں۔روسی افواج نے 1184 گاڑیاں، 7 بحری جہاز اور ہلکی اسپیڈ بوٹس، 75 ایندھن کی گاڑیاں اور 81 بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیوں کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔



