جرمنی میں کئی ادویات کی قلت
جرمن دارالحکومت برلن کے ترک نژاد ادویات فروش فاتح کائنک کہتے ہیں کہ
برلن، 17فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)جرمن وزیر صحت لاؤٹرباخ ملک میں ادویات کی قلت کا تدارک قانونی طریقے سے کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ بھی اس مسئلے کو جادو سے تو حل نہیں کر سکیں گے، جبکہ اس دوران جرمنی میں کئی ادویات کی دستیابی میں تعطل وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔جرمن دارالحکومت برلن کے ترک نژاد ادویات فروش فاتح کائنک کہتے ہیں کہ بخار کم کرنے والے پیراسیٹامول سیرپ کی کمیابی کا انہوں نے حل یہ نکالا کہ اب ان کے پیشہ ور دوا سازوں کی ٹیم اپنا ہی پیراسیٹامول سیرپ تیار کرتی ہے، جو خاص طور پر ان چھوٹے بچوں کے لیے ہوتا ہے جو اس دوائی کی گولیاں آسانی سے نہیں نگل سکتے۔جب انہوں نے باقاعدہ قانونی اجازت لے کر پہلی مرتبہ یہ سیرپ تیار کروایا، تو بچوں کے امراض کے ایک قریبی ڈاکٹر کے ذریعے اس کا کئی مریضوں پر تجربہ بھی کیا گیا تو نتائج مثبت اور حوصلہ افزا تھے۔
فاتح کائنک کہتے ہیں کہ وہ خوش ہیں کہ ان کی کمپنی کا تیار کردہ پیراسیٹامول کا سیرپ ذائقے میں بھی اچھا ہے اور اپنے طبی اثرات میں بھی کئی دیگر مشہور کمپنیوں کے تیار کردہ سیرپوں سے بہتر بھی۔جرمنی میں دوا فروشوں کی کئی تنظیموں کے مطابق پورے ملک میں اس وقت ایسی ادویات کی تعداد تقریبا 425 بنتی ہے، جن کی ترسیل میں اکثر تاخیر ہو جاتی ہے اور جو زیادہ تر کافی مقدار میں سپلائی نہیں کی جاتیں۔ فاتح کائنک کے مطابق ایسی ادویات میں پینیسیلین، کئی طرح کی اینٹی بائیوٹکس، حتیٰ کہ بلڈ پریشر کم کرنے والی اور سرطان، معدے اور دل کے امراض کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات بھی شامل ہیں۔
جہاں تک سرکاری اعداد و شمار کا تعلق ہے تو جرمنی میں ادویات کی کمیابی ریکارڈ کرنے والے مرکزی وفاقی ڈیٹا بینک PharmNet.Bund کے مطابق بھی ملک میں اس وقت 425 ادویات ایسی ہیں، جو ترسیل میں جمود یا کمیابی کے باعث دوا فروشوں اور ان کے ذریعے مریضوں کو مہیا نہیں کی جا سکتیں۔سب سے زیادہ آبادی والے جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں دوا فروش اداروں کی صوبائی تنظیم سے ابھی حالہ ہی میں جب یہ پوچھا گیا کہ ان کے ہاں کن ادویات کی کمی ہے، تو صرف 48 گھنٹے کے اندر ہی 400 سے زائد دوا فروشوں نے جو جوابات دیئے، ان کے مطابق ان کے پاس عام صارفین ڈاکٹروں کے لکھے جو نسخے لے کر آتے اور ادویات کے حصول کے خواہش مند ہوتے ہیں، ان میں سے ہر پانچواں طبی نسخہ ایسا ہوتا ہے، جو ادویات کی قلت سے متاثر ہوتا ہے۔
یوں یہ ڈرگ اسٹورز جب اپنے گاہکوں کو ان ادویات کی ترسیل کے لیے اضافی اقدامات کرتے ہیں، تو ان میں سے ہر کیمسٹ کے کاروبار کو صرف اسی وجہ سے ہی اوسطاً ماہانہ تقریباً تین ہزار یورو کے اضافی اخراجات کا سامنا رہتا ہے۔برلن کے کیمسٹ فاتح کائنک کہتے ہیں کہ وہ سپلائی میں تعطل اور جمود سے پیدا ہونے والے اس مسئلے کے حل کے لیے مرکزی آن لائن مانیٹر کے ذریعے ہر گھنٹے اس بات پر نظر رکھتے ہیں کہ تھوک میں ادویات کی تجارت کرنے والے اداروں کے پاس کون کون سی کمیاب ادویات کی نئی سپلائی آئی ہے۔جرمنی میں ہر کسی کے لیے صحت کی انشورنس لازمی ہے۔



