بین الاقوامی خبریں

شوہر کی وراثت میں بیوی کے نصف حق سے متعلق شیخ الازھر کے فتوے پر نئی بحث چھڑگئی

قاہرہ، 22فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مصر کی پارلیمنٹ میں مذہبی امور اور اوقاف کمیٹی کے اراکین نے محنت اور کمائی کے بارے میں شیخ الازہر Sheikh Al Azhar  کے فتویٰ  Fatwa  کے حوالے سے حال ہی میں میڈیا میں سامنے آنے والی باتوں کا جواب دینے کے لیے ایک رپورٹ تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

دوسری طرف عوامی اور ابلاغی حلقوں میں بھی شیخ الازھر کا فتویٰ زیر بحث ہے۔کمیٹی کے ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ متنازعہ معاملہ یہ ہیکہ فتویٰ اس بات پر جاری کیا گیا تھا کہ یہ عورت کو جائیداد کی وراثت کا نصف حصہ حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

یہ حصہ شوہر کے ساتھ اس کے تعلق کی وجہ سے اس کی میراث میں سے ملنیوالے ترکے کے علاوہ ہے۔ جس وہ شوہر سے وراثت میں جائز حق رکھتی ہے مگر یہ فتویٰ شوہر کی کمائی میں بیوی کی حصے داری کی وجہ سے ہے جسے محنت اور کمائی کا نام دیا گیا ہے۔

کمیٹی نے واضح کیا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے عمل سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن یہ اسلام کے خواتین کی عزت اور ان کے مکمل حقوق حاصل کرنے پر زور دینے کے دائرے میں آتا ہے۔

مذہبی امور کی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر علی جمعہ نے وضاحت کی کہ شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب کا مقصد شوہرکے ساتھ پیسہ کمانے میں محنت کرنے یا اپنے باپ کے پیسے سے شوہر کے کاروبار کو توسیع دینے سے ہے۔ اس کے برعکس نہیں۔جہاں تک اس پر اختلافات اٹھے تو وہ صرف غلط فہمی کا نتیجہ ہیں۔

غور طلب ہے کہ مذہبی کمیٹی نے اتوار کو اپنے اجلاس میں صدر کے حکم نامہ کی کچھ شقوں میں ترمیم کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ طارق رضوان اور 60 دیگر ارکان (کونسل کے ارکان کی تعداد کے دسویں حصے سے زیادہ) کے پیش کردہ مسودہ قانون مجریہ 2014ء کی منظوری دی۔

قانون نمبر 51 مساجد میں بیان بازی اور مذہبی اسباق کے عمل کو منظم کرتا ہے اور کمیٹی اس پر آئینی اور قانون سازی کے امور کی کمیٹی کے ساتھ مشترکہ طور پر بحث کرتی ہے۔

شیخ الازہر کے فتویٰ محنت اور جستجو کا حق کو بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا خاص طور پر ان جدید پیش رفتوں کی روشنی میں جو خواتین کو لیبر مارکیٹ میں داخل ہونے اور اپنے شوہروں کے ساتھ زندگی کا بوجھ بانٹنے کی صورت میں پیش آتی ہیں۔

گذشتہ ہفتے سعودی وزیر برائے اسلامی امور، دعوت و ارشاد الشیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز آل الشیخ کے ساتھ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں مذہبی ہم آہنگی سے متعلق مشترکہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ اس موقعے پر شیخ الازہر نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی ورثہ امیر ہے۔

مختلف مسائل کا حل اسلامی قانون کا مقصد خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنا اور ہر اس چیز کو یقینی بنانا ہے جس سے ان کی زت محفوظ ہو۔

ڈاکٹر الطیب نے زور دے کر کہا کہ ازدواجی زندگی حقوق اور فرائض پر نہیں بنتی بلکہ دوستی، محبت اور رویوں پر استوار ہوتی ہے جس میں شوہر اپنی بیوی کی حمایت کرتا ہے اور بیوی اپنے شوہر کے لیے سہارا ہوتی ہے تاکہ ایک صالح خاندان کی تعمیر اور تعاون کرنے کے قابل ہو۔

متعلقہ خبریں

Back to top button