واشنگٹن :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پچھلے دو دنوں کے دوران سابق افغان آرمی چیف جنرل ہیبت اللہ علی زئی کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے جس میں انہیں امریکہ میں ایک فٹ پاتھ پربے بسی کی مجسم تصویر بنے بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔
Join Urdu Duniya WhatsApp Group.
سابق افغان آرمی چیف کی یہ حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ میر نے یہ شعر
دیرسے اٹھ کے کعبے آیا میر
جسے چاہے خدا خراب کرے
ورجینیا کے ایک پناہ گزین کیمپ میں اعلیٰ فوجی کمانڈر کی تصویر نے افغانوں میں بڑے پیمانے پر مشتعل کیا ہے۔ جنرل علی زئی کو طالبان کے کابل پر کنٹرول حاصل کرنے سے ایک ہفتہ پیشتر ہی افغان فوج کا چیف مقرر کیا گیا تھا۔
اس وقت انہوں نے طالبان کے خلاف جنگ جیتنے کا دعویٰ کیا تھا۔ مگر جب خطرہ ان کے دروازے پر دستک دینے لگا تو وہ بیرون ملک فرار ہوگئے تھے۔قابل ذکر ہے کہ علی زئی کی تصویر کو بہت سے افغان صحافیوں نے نقل کی ہے۔
اس تصور میں وہ شکست خوردہ دکھائی دیتے ہیں۔ شاید وہ اس سوچ میں گم ہیں کہ وہ ورجینیا کے پناہ گزین کیمپ سے کیسے باہر نکلیں اور امریکہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے کوشش کریں۔گذشتہ اگست کابل پر امریکہ کی حمایت یافتہ حکومت اور اس کی وفادار فوج طالبان کے مقابلے میں ریت کی دیوار ثابت ہوئی تھی۔
هیبتالله علیزی یک هفته قبل از فروپاشی، بهحیث رئیس ستاد ارتش گماشته شد. او گفت: ” این جنگ را میبریم.”
او حالا در کمپ مهاجران افغان در ویرجینیا است. سرخورده از یک شکست تلخ.
بسیاری از سربازان ارتش افعانستان به وطن و سرزمین شان تعهد داشتند، اما همه قربانی خیانت رهبری مملکت شدند. pic.twitter.com/B1BsVRPNfS— Mukhtar wafayee مختار وفایی (@Mukhtarwafayee) October 23, 2021
طالبان کے کابل میں داخلے کے بعد صدر اشرف غنی بیرون ملک فرار ہوگئے تھے۔



