
برلن،28نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جرمنی میں شہریت کے حصول کی تمام تر شرائط پورا کرنے والوں کو پانچ سال یا ’’انضمام کی غیر معمولی کامیابیوں‘‘ کے ساتھ تین سال میں بھی جرمن شہریت مل سکے گی۔ نیا حکومتی منصوبہ تیار ہوگیا ہے۔جرمن حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ جرمن شہریت حاصل کرنے کے قوانین کو آسان بنانے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ گزشتہ برس حکومت سازی کے لیے ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے مطابق شہریت کے حصول کی تمام تر شرائط پورا کرنے والوں کو پانچ سال یا ”انضمام کی غیر معمولی کامیابیوں‘‘ کے ساتھ تین سال میں بھی جرمن شہریت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ جرمنی میں پیدا ہونے والے بچے جن کے والدین میں سے کوئی ایک بھی پانچ سال سے جرمنی میں قانونی طور پر مقیم ہو انہیں بھی جرمن شہریت دے دی جائے گی۔ برلن حکومت دْوہری شہریت پر لگی پابندیاں بھی ہٹانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
جرمنی کی سماجی طور پر لبرل حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جرمنی شہریت حاصل کرنے کے قوانین کو آسان بنانے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ یورپی یونین کے سب سے زیادہ آبادی والے اس ملک میں قدامت پسند اپوزیشن کی طرف سے حکومت کو اس معاملے میں شدید مخالفت کا سامنا ہے۔جرمن چانسلر اولاف شولس نے آج ہفتہ 26 نومبر کو ایک ویڈیو پیغام میں کہا، ”جرمنی طویل عرصے سے بہت سے لوگوں کے لیے امید کا محور ملک بن چکا ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ وہ باشندے جو جرمنی آکر یہاں کی جڑوں سے پیوست ہو گئے ہیں وہ اب جرمن شہریت لینے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ جرمن چانسلر نے مزید کہا کہ جرمنی کو ان تمام عظیم خواتین اور مردوں کو شہریت دینے کے لیے ضوابط پرنظر ثانی کرنا ہوگی اور یہ موجودہ سہ جماعتی مخلوط حکومت کی جرمن شہریت دینے کے حوالے سے جدید اصلاحات کے سلسلے کا ایک حصہ ہے۔
واضح رہے کہ موجودہ مخلوط حکومت میں سینٹر لیفٹ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی، ماحولیات دوست گرین پارٹی اور کاروبار کی حامی فری ڈیموکریٹس کی جماعت ایف ڈی پی شامل ہے۔ ان تینوں نے گزشتہ دسمبر میں وزارتیں سنبھالنے کے ساتھ ہی جرمن شہریت کے قوانین کو آسان بنانے کے لیے اصلاحات کا فیصلہ کیا تھا۔وزارت داخلہ نے گزشتہ جمعے کو کہا کہ مسودہ قانون تقریباً تیار ہے۔اصولی طور پر جرمنی میں یورپی یونین میں شامل ممالک اور سوئٹزرلینڈ کے علاوہ تمام دیگر ممالک کے باشندوں کو دوہری شہریت رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ یعنی اب تک یورپی یونین کے رکن ممالک اور سوئٹزرلینڈ کے علاوہ دنیا کے کسی دوسرے ملک کے شہریوں کو جرمن شہریت لینے کے لیے اپنی سابقہ شہریت ختم کرنا پڑتی ہے تاہم اس قانون میں کچھ چھوٹ بھی رکھی گئی تھی۔



