بین ریاستی خبریں

گجرات یونیورسٹی میں اردو کی پہلی پی ایچ ڈی،پروفیسر ناظمہ انصاری کی نگرانی میں دو طلبہ کا تاریخ ساز کارنامہ

گجرات میں اردو تحقیق کا پہلا چراغ روشن ہو گیا

احمد آباد 13 اپریل:(راست) گجرات کی سرزمین، جو اپنی تہذیب اور علمی روایت کے لیے جانی جاتی ہے، ایک اہم اور تاریخی کامیابی کی گواہ بنی ہے۔ احمد آباد کی گجرات یونیورسٹی میں اردو زبان و ادب کے میدان میں پہلی مرتبہ پی ایچ ڈی مکمل ہونے کا سنگ میل حاصل کیا گیا ہے، جو نہ صرف تعلیمی دنیا بلکہ اردو حلقوں کے لیے بھی باعثِ فخر لمحہ ہے۔

گجرات آرٹس اینڈ سائنس کالج کے شعبۂ اردو کی صدر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ناظمہ انصاری کی نگرانی میں دو محنتی اسکالرز، محمد یٰسین قریشی اور احمد حسن نے کامیابی کے ساتھ اپنے تحقیقی مقالے مکمل کیے۔ اس طرح گجرات میں اردو تحقیق کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔

محمد یٰسین قریشی نے اپنے مقالے میں معروف افسانہ نگار نیر مسعود کی شخصیت اور فن پر گہری تحقیق پیش کی، جبکہ احمد حسن نے ممتاز نقاد خلیل الرحمن اعظمی کے فکری اور تنقیدی پہلوؤں کو موضوع بنایا۔ دونوں اسکالرز نے وائیوا کے دوران اپنے موضوعات پر اعتماد کے ساتھ اظہار خیال کیا اور ماہرین کے سوالات کے مدلل جوابات دے کر اپنی علمی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

اس موقع پر بیرونی ممتحن کے طور پر ڈاکٹر کرتی مالنی (امبیڈکر یونیورسٹی، اورنگ آباد) اور ڈاکٹر شکیل احمد (سیوا سدن مہا ودھیالیہ، برہان پور) شریک ہوئے۔ دونوں ماہرین نے مقالوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد انہیں اعلیٰ معیار کی تحقیق قرار دیتے ہوئے نہ صرف پی ایچ ڈی ڈگری کے لیے موزوں بتایا بلکہ اشاعت کے قابل بھی قرار دیا۔

ان کے مثبت تبصروں اور اعلان پر تقریب میں موجود شرکاء نے بھرپور خوشی کا اظہار کیا اور تالियों سے اس کامیابی کا خیرمقدم کیا۔ یہ لمحہ علمی فضا میں ایک یادگار حیثیت اختیار کر گیا۔

تقریب میں بھاشا ساہتیہ بھون کی ڈائریکٹر اور شعبۂ اردو کی صدر پروفیسر نوتن کوٹک سمیت مختلف شعبوں کے اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز نے شرکت کی۔ اس موقع پر ولی گجراتی کے ادبی ورثے کا ذکر بھی کیا گیا، جس نے اس تقریب کو مزید معنویت عطا کی۔

یہ وائیوا 6 اپریل 2026 کو صبح 11 بجے منعقد ہوا، جو گجرات میں اردو تحقیق کی تاریخ میں ایک اہم دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

اپنے خطاب میں پروفیسر ناظمہ انصاری نے اس کامیابی کے پس منظر میں آنے والی مشکلات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2018 میں داخلہ لینے والے طلبہ نے کورونا وبا سمیت کئی چیلنجز کا سامنا کیا، مگر اپنی محنت اور استقامت سے منزل حاصل کی۔

یہ کامیابی صرف دو طلبہ کی نہیں بلکہ ایک استاد کے خواب کی تعبیر بھی ہے، جس کے لیے مسلسل جدوجہد اور قربانی درکار تھی۔

علامہ اقبال کے یہ اشعار اس موقع کی بہترین عکاسی کرتے ہیں:

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

گجرات میں اردو تحقیق کا یہ پہلا چراغ مستقبل میں ایک روشن قافلے کی شکل اختیار کرے گا، جہاں آنے والی نسلیں اسی روشنی میں اپنے علمی سفر کو آگے بڑھائیں گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button