جرائم و حادثاتسرورق

6 سالہ معصوم بچی سے مبینہ زیادتی، مرکزی ملزم اور نابالغ کزن گرفتار

واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل برآمد

ہاپوڑ کرائم نیوز (ویب ڈیسک): اتر پردیش کے ضلع ہاپوڑ کے پلکھوا کوتوالی علاقہ سے ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ چھ سالہ معصوم بچی کے ساتھ مبینہ عصمت ریزی کے افسوسناک واقعے میں ہاپوڑ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی نامزد ملزم ابھیشیک اور اس کے نابالغ کزن کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے پیر کی رات دیر گئے دونوں ملزمان کو گاؤں کانوی کٹ کے قریب سے اس وقت دھر دبوچا جب وہ موٹر سائیکل پر فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

ایف آئی آر (FIR) کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے پیش آیا۔ متاثرہ معصوم بچی گاؤں کے ایک مندر کے پاس کھیل رہی تھی۔ الزام ہے کہ ملزم ابھیشیک اور اس کا نابالغ کزن لڑکی کو کولڈ ڈرنک کا لالچ دے کر موٹر سائیکل پر بٹھا کر قریبی کھیت میں لے گئے۔ رپورٹ کے مطابق مرکزی ملزم نے بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ اس کا کزن اس جرم میں برابر کا شریک رہا۔

واردات کو انجام دینے کے بعد جب ملزمان لڑکی کو ساتھ لے کر گاؤں واپس آ رہے تھے تو راستے میں بچی کے والد نے انہیں دیکھ لیا۔ اہل خانہ کو سامنے دیکھ کر ملزمان خوفزدہ ہو گئے اور بچی کو وہیں چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد متاثرہ خاندان نے پلکھوا کوتوالی پولیس کو مطلع کیا، جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تفتیش کا آغاز کیا اور بچی کا طبی معائنہ (Medical examination) کروایا۔

سرکل آفیسر (سی او) منیش چندرا نے میڈیا کو بتایا کہ متاثرہ خاندان کی شکایت پر پولیس نے فوری طور پر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ پیر کی رات خفیہ اطلاع ملی کہ ملزمان موٹر سائیکل پر اپنی چھپنے کی جگہ تبدیل کرنے والے ہیں، جس پر کانوی کٹ گاؤں کے قریب گھیرا بندی کر کے دونوں کو گرفتار کر لیا گیا اور واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل بھی برآمد کر لی گئی۔

سی او منیش چندرا کے مطابق، بالغ ملزم ابھیشیک کو عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے، جبکہ دوسرے نابالغ ملزم کے خلاف جووینائل جسٹس (JJ Act) کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ اور برآمد شدہ شواہد کی بنیاد پر کیس کو مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ ملزمان کو سخت ترین سزا دلائی جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button