نیویارک ، 8 ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے اسرائیل کے نیوز چینل آئی 24 چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے پندرہ برس قبل شام کے جوہری ری ایکٹر کو تباہ کرنے کے متعلق اہم انکشافات کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو اندازہ تھا کہ شام کوئی خفیہ منصوبہ چلا رہا ہے تاہم ہمارے پاس اس کی تصدیق کیلئے ٹھوس معلومات موجود نہیں تھیں۔اولمرٹ 30 ستمبر کو اپنی 77 ویں سالگرہ منانے والے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مارچ 2007 میں موساد کے سربراہ نے مشرقی شام میں ایک پوشیدہ علاقے میں بنائے گئے جوہری ری ایکٹرز کی لگ بھگ 50 تصاویر دکھائی تھیں اور بتایا تھا کہ اس ری ایکٹر کا مقصد ایٹم بم بنانا ہے۔
دیر الزور گورنری میں شام کے ’’الکبر کمپلیکس‘‘ کے متعلق اطلاع ملنے کے 6 ماہ بعد اسرائیلی جنگی طیارے 6 ستمبر 2007 کی نصف شب کو کمپلیکس پر حملہ کیلئے اڑے۔ہم اس کو تباہ کرنے کیلئے مزید معلومات جمع کرنا چاہتے تھے تاکہ اسے شام کے ساتھ جنگ شروع کئے بغیر ختم کیا جا سکے۔ہمارا شام سے لڑنے کا ارادہ نہیں تھا۔ ورنہ حالات کے مطابق کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرسکتے تھے لیکن ہم نے بمبار طیارے بھیجے تھے۔اولمرٹ نے بتایا کہ خفیہ معلومات کا بہت کم افراد کو بتایا گیا تھا، صرف اس وقت کے امریکی صدر جارج بش اور امریکی انٹیلی جنس کے سربراہان جانتے تھے کہ ہم اس جگہ کو تباہ کریں گے۔
اس سب کے بعد ہم بمباری کیلئے تیار تھے چاہے شام صرف ایک ہی میزائل داغتا تو ہم جواب میں سیکڑوں میزائلوں کی بارش کر چکے ہوتے۔ تاہم ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ بشار الاسد جواب میں اسرائیل پر حملہ نہیں کرنا چاہتا۔ یہ فیصلہ بشار الاسد کی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔منگل کی شام اسرائیلی فوج نے اپنے طیاروں کے ذریعہ شام کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کرانے کے 15 سال گزرنے کے بعد ایک داخلی دستاویز کو ظاہر کیا ہے جس میں اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ نے 2002 میں خبردار کیا تھا کہ شام جنگی نوعیت کے ایٹمی منصوبہ پر کام کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
ان دستاویز میں یہ اہم عبارت بھی ہے کہ حال ہی میں یہ معلوم ہوا ہے کہ خفیہ منصوبے جن کے بارے میں ہمیں علم نہیں تھا وہ شامی جوہری توانائی اتھارٹی کے فریم ورک کے اندر لاگو کیے جا رہے ہیں یا کم از کم زیر عمل ہیں۔پانچ سال قبل ری ایکٹر کو مشرقی شام میں دیر الزور کی گورنری میں ایک خفیہ مقام پر نشانہ بنایا گیا تھا، جس کا اسرائیل نے 2018 تک اعلان نہیں کیا تھا۔جہاں تک شام کی ایٹمی تنصیبات پر حملے اور اوپر دی گئی ویڈیو کی حقیقت کی جانچ کی بات ہے۔



