بین الاقوامی خبریں

عمران خان نے اپنے خلاف مقدمات کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دے کر مسترد کردیا

عمران خان اور ان کی جماعت کے قائدین نے اس فیصلے کو مسترد کردیا ہے

اسلام آباد، 23مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)پاکستان کے سابق وزیراعظم اورتحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے العربیہ کو ایک خصوصی انٹرویو میں اپنے خلاف دائرمقدمات کو سیاسی محرکات پر مبنی الزامات قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد انھیں انتخابی دوڑ سے باہر رکھنا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ سب سیاسی محرکات پر مبنی مقدمات ہیں تاکہ مجھے انتخابی دوڑ سے باہر رکھا جا سکے۔انھوں نے پنجاب اورخیبرپختونخوا میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ (حکمران اتحاد میں شامل جماعتیں) فکرمند ہیں کہ اگر ہم 30 اپریل کو ہونے والے انتخابات میں جاتے ہیں تو وہ ہار جائیں گے۔ان کے اس انٹرویو کی اشاعت کے دوران میں یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ الیکشن کمیشن پاکستان نے صوبہ پنجاب میں 30 اپریل کوہونے والے انتخابات 8 اکتوبرتک ملتوی کردیے ہیں۔

عمران خان اور ان کی جماعت کے قائدین نے اس فیصلے کو مسترد کردیا ہے اور اس کو الیکشن کمیشن کی آئین شکنی کے مترادف قراردیا ہے۔انھوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ وہ عدالت کی سماعتوں میں شرکت سے بچنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔تاہم ، انھوں نے واضح کیا کہ جب وہ پیش نہیں ہوئے تو یہ عمل یا تونومبرمیں ان کے خلاف قاتلانہ حملے میں لگنے والی چوٹوں یا پھر سکیورٹی خطرات کی وجہ سے تھا۔عمران خان پنجاب کے شہروزیرآباد میں ایک ریلی میں زخمی ہونے کے بعد مکمل طور پر صحت یاب ہونے تک چارماہ تک گھرمیں بند رہے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ حکومت خود کہتی ہے کہ عمران کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے، لیکن وہ انھیں تحفظ مہیانہیں کرے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب اسلام آباد میں عدالت کی سماعت دوسری جگہ ،جوڈیشل کمپلیکس میں منتقل ہوئی تو وہ وہاں گئے اور خود کو پیش کیا۔

عمران خان نے اپنے اس الزام کا اعادہ کیا کہ حکومت انھیں مارنے کی کوشش کر رہی ہے۔انھوں نے اپنی ٹانگ میں گولی لگنے کا الزام وزیراعظم شہبازشریف، وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ خان اور پاک فوج کے میجرجنرل فیصل نصیر پرعاید کیا کہ وہ آئی ایس آئی کے لیے کام کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button