بین الاقوامی خبریں

امریکی ناکہ بندی کے درمیان ایران کی سخت وارننگ،کوئی بھی خلیجی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی

اگر ایران کے مفادات کو نقصان پہنچایا گیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

تہران 13 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور انتباہات کے ساتھ سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ تازہ صورتحال میں ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کی بندرگاہوں کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے اور خلیج فارس یا خلیج عمان کی کوئی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔

یہ سخت انتباہ امریکی اقدام کے ردعمل میں سامنے آیا ہے، جہاں امریکی فوج نے پیر سے ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ پابندی تمام ممالک کے ان جہازوں پر لاگو ہوگی جو ایرانی بندرگاہوں میں داخل یا وہاں سے روانہ ہوں گے، جبکہ دیگر بین الاقوامی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکیں گے۔

ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے ترجمان نے مہر خبررساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں میری ٹائم سیکیورٹی ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے والی کسی بھی کارروائی کے اثرات پڑوسی ممالک تک پھیلیں گے اور پورا علاقہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔

ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب نے بھی اپنے بیانات میں کہا کہ خلیج فارس کی سلامتی سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے، اور اگر ایران کے مفادات کو نقصان پہنچایا گیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

یہ پیش رفت پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کی ناکامی کے بعد سامنے آئی ہے، جہاں دونوں فریق کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہوئے جب ایران نے امریکی شرائط، خاص طور پر جوہری پروگرام سے متعلق مطالبات، تسلیم کرنے سے انکار کیا، جبکہ ایران نے نقصانات کے ازالے اور منجمد اثاثوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

ادھر اس اعلان کے بعد خطے میں جہاز رانی کی سرگرمیاں متاثر ہو گئی ہیں۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے عالمی سپلائی چین پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی خام تیل کی قیمت میں تقریباً 8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ برینٹ کروڈ بھی 7 فیصد مہنگا ہو گیا، جو عالمی معیشت کے لیے خطرے کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

موجودہ صورتحال میں یہ خدشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے پڑ سکتے ہیں، خصوصاً جب 22 اپریل کو جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button