بین الاقوامی خبریں

امریکی میزائل حملے میں 7 ایرانی فوجی ہلاک، اسلام آباد معاہدہ اب مؤثر نہیں: ایران

 امریکہ نے نئی کارروائیوں کی تصدیق کر دی

تہران:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے علاقے بمپور میں واقع ایک فوجی اڈے کے رہائشی حصے پر امریکی میزائل حملے میں کم از کم 7 فوجی ہلاک جبکہ متعدد اہلکار زخمی ہو گئے۔

ایرانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بدھ کی صبح امریکی افواج نے فوجی بیرک کے رہائشی علاقے کو تقریباً 13 میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ بیان میں کہا گیا کہ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کا تعلق ایران شہر میں تعینات 388ویں بریگیڈ سے تھا، جن میں مستقل فوجی اہلکاروں کے ساتھ لازمی فوجی خدمت انجام دینے والے سپاہی بھی شامل تھے۔

فوج کے مطابق زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

اس سے قبل ایرانی ذرائع ابلاغ نے بمپور، خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے قریب متعدد ساحلی علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات دی تھیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے بعد خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ تاہم ایران کے اس دعوے پر امریکی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب امریکی فوج کی سینٹرل کمان (CENTCOM) نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر ڈیڑھ بجے کیے گئے حملوں کا مقصد ایران کی ان عسکری صلاحیتوں کو نقصان پہنچانا تھا جنہیں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا تھا۔

امریکی فوج کے مطابق کارروائیوں کا ہدف ایسے فوجی وسائل تھے جو خطے میں بحری آمدورفت اور عالمی تجارتی راستوں کے لیے خطرہ سمجھے جا رہے تھے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کے تحفظ اور تجارتی سرگرمیوں کو محفوظ بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

ادھر ایرانی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اردن، بحرین اور کویت میں واقع بعض امریکی اڈے ایرانی کارروائیوں کی زد میں آئے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں کے قریب بحری نگرانی اور ناکہ بندی کی سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اسی دوران ایران نے اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کو باضابطہ شکل دینے والے اسلام آباد معاہدے کو اب مؤثر نہیں سمجھا جاتا اور اسے ختم تصور کیا جا رہا ہے۔

دونوں ممالک کے متضاد بیانات کے باعث خطے کی صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button