بین الاقوامی خبریں

ایران پر حملہ کی بھرپور تیاری کر رہے ہیں: اسرائیل

ایران کی جوہری بم کی تیاری اوراسرائیل کی فوجی کارروائی کی دھمکی

دبئی ، 18 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایرانی جوہری خطرے کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کی اسرائیلی دھمکی کی روشنی میں سابق ایرانی وزیر خارجہ کمال خرازی نے پریس بیانات میں اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے ملک کے پاس جوہری بم تیار کرنے کی ’تکنیکی صلاحیتیں‘موجودہیں، تاہم انہوں نے اپنے سرکاری موقف کا اعادہ کیا کہ تہران نے ابھی جوہری ہتھیار تیار کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔خرازی نے کہا کہ یہ کوئی راز نہیں ہے کہ ایران کے پاس جوہری بم بنانے کی تکنیکی صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے بتایا کہ چند ہی دنوں میں تہران نے یورینیم کی افزودگی کی شرح کو 20 سے بڑھا کر 60 فی صد کر دیا تھا۔ اسے مزید 90 فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد ایران جوہری توانائی کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔

یہ پیشرفت امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی وزیر اعظم یائر لپیڈ کی جانب سے گذشتہ جمعرات کو تہران کے ساتھ سفارتی کوششوں پر طویل بحث کے اختتام پر ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے مشترکہ عہد پر دستخط کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔بائیڈن جنہوں نے گذشتہ ہفتے اسرائیل کا دورہ کیا، کہا کہ وہ تہران کے خلاف طاقت کے استعمال کو آخری آپشن قرار دیا۔ قابل ذکر ہے کہ ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری مذاکرات گذشتہ سال اپریل سے ویانا میں شروع ہوئے تھے اور میراتھن راؤنڈز تک جاری رہے۔

مذاکرات کا عمل گذشتہ مارچ میں معاہدے سے باہر کی کچھ نئی ایرانی درخواستوں کی وجہ سے رک گیا تھا۔ ایران نے پاسداران انقلاب کو بلیک لسٹ سے نکالنے کا مطالبہ کیا تھا مگر امریکا نے یہ مطالبہ نہیں مانا۔اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایویو کوچاوی نے اتوار کو اعلان کیا کہ اسرائیل اپنے ہوم فرنٹ کو جنگ کے لیے تیار کر رہا ہے جو ایرانی جوہری خطرے کے خلاف کام کرنے کے امکان کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج ایران میں حملے کے لیے بھرپور تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کسی بھی پیش رفت اور کسی بھی منظر نامہ کے لیے تیار رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی جوہری پروگرام کے خلاف فوجی آپشن قومی سلامتی اور اسرائیلی فوج کی تیاریوں کے مرکز میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف قسم کے آپریشنل منصوبے ہیں، بہت سے وسائل مختص کرنا، مناسب ہتھیاروں کا حصول، انٹیلی جنس کا حصول اور تربیت جیسے امور پرکام ہو رہا ہے۔اسی تناظر میں اسرائیلی وزیر اعظم یائر لپیڈ نے تصدیق کی کہ انہوں نے امریکی صدر بائیڈن پر جوہری معاہدے کی مخالفت واضح کر دی ہے۔اتوار کو حکومتی اجلاس کے آغاز میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایرانی جوہری پروگرام کے خلاف سفارتی اور عملی طور پر کارروائی کی مکمل آزادی برقرار رکھتا ہے۔لپیڈ نے بھی بائیڈن کے دورے کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ اس دورے کے سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی کے اثرات ہوں گے۔

ایران اور روس میں معاہدے کے باوجود شام میں کارروائیاں جاری رکھیں گے: اسرائیلی اہلکار

ایک اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے انکشاف کیا کہ ایران اور روس کے درمیان ڈرون فروخت کرنے کے معاہدے میں شام میں اسرائیل کی کارروائیوں کو محدود کرنے کا معاہدہ شامل ہونے کی توقع نہیں ہے۔اہلکار نے اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم کوبتایا کہ عام طور پر اسرائیل روس اور ایران کے درمیان تعلقات کو پسند نہیں کرتا۔ آنے والے دنوں میں روسی صدر کے متوقع دورہ تہران اور ایک صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات ہوگی۔

اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے کہا کہ روسیوں کی بنیادی ضرورت خاص طور پر ڈرونز کی انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنے کی صلاحیتوں سے متعلق تھی، نہ کہ ان کی جارحانہ صلاحیتوں سے۔امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں انکشاف کیا تھا کہ ایرانی ساختہ سینکڑوں ڈرون فراہم کرنے کے لیے ایک بڑا معاہدہ کیا گیا ہے، جو گائیڈڈ میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جبکہ ’سی این این‘ کو موصول ہونے والی سیٹ لائٹ تصاویر اور معلومات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گذشتہ جون میں روسی نمائندوں نے ان ڈرونز کے بارے میں اپنے تاثرات حاصل کرنے کے لیے ایرانی فضائیہ کے ایک اڈے کا دورہ کیا۔امریکی حکام نے CNN کو بتایا کہ ایران نے جون میں تہران کے جنوب میں واقع کاشان ہوائی اڈے پر روس کو شاہد -191 اور شاہد -129 طیاروں کی نمائش کرائی جنہیں ڈرون بھی کہا جاتا ہے۔دونوں قسم کے ڈرون گائیڈڈ میزائل لے جانے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ تہران نے بغیر پائلٹ کے طیاروں کے بیڑے کو تیار کرنے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے، جو عام جنگی طیاروں کے لیے ایرانی فضائیہ کا سستا اور مؤثر متبادل ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button