
داعش کی دُلہن دوبارہ منظر عام پر ،وہ بچی تھی اور اسے اسمگل کیا گیا‘
شدت پسند تنظیم ’داعش‘ کی برطانوی دلہن شمیمہ بیگم جو شمال مشرقی شام میں تنظیم کے بے گھر خاندانوں کے کیمپ میں ہے اپنے ملک سے معافی مانگنے اور اپنی قومیت کا دعویٰ کرنے کے بعد بھی واپسی کی سخت کوشش کر رہی ہے
لندن، 22نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) شدت پسند تنظیم ’داعش‘ کی برطانوی دلہن شمیمہ بیگم Shamima Begum جو شمال مشرقی شام میں تنظیم کے بے گھر خاندانوں کے کیمپ میں ہے اپنے ملک سے معافی مانگنے اور اپنی قومیت کا دعویٰ کرنے کے بعد بھی واپسی کی سخت کوشش کر رہی ہے۔تنظیم میں شامل ہونے کے بعد شاید اس کی برطانوی شہریت کا خاتمہ اس کی زندگی کا اہم موڑ تھا اور اس کے 3 بچوں کا کھو جانا جو ان کی پیدائش کے فوراً بعد فوت ہو گئے تھے ان کے لیے مشکل ترین لمحات تھے۔شمیمہ بیگم پندرہ برس کی عمر میں 2015 میں اپنی دو سہلیوں کے ساتھ لندن سے نکلی تھی۔
اس کے وکلاء نے برطانوی حکومت کے اس کی شہریت چھیننے کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے۔پیر کو خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق انھوں نے لندن میں ایک عدالت کو بتایا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ اسمگلنگ کا شکار ہونے والی بچی ہو۔ان کی وکیل، سمانتھا نائٹس نے وضاحت کی کہ شہریت ختم کرنے کا فیصلہ شمیمہ بیگم کو زندگی کے لیے مؤثر طریقے سے جلاوطنی بنا دیتا ہے۔اس نے مزید کہا کہ یہ معاملہ ایک 15 سالہ برطانوی لڑکی سے متعلق ہے جسے ’آئی ایس آئی ایس‘[داعش] کی دباؤ اور با اثر پروپیگنڈہ مشین نے اپنی دوستوں کے ساتھ شام کے سفر پر راضی کیا۔اس کے وکلا نے عدالت میں جمع کرائے گئے دفاعی میمورنڈم میں یہ بھی کہا کہ وزارت داخلہ نے تفتیش اور اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کیے بغیر کہ کیا بیگم اسمگلنگ کا شکار تھی اس کی شہریت چھین لی۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس بات کے پختہ شواہد موجود ہیں کہ بیگم کوجنسی استحصال کے مقصد کے لیے شام میں بھرتی کیا گیا تھا۔لیکن وزارت داخلہ کے وکلاء نے کہا کہ یہ مقدمہ اسمگلنگ سے زیادہ قومی سلامتی سے متعلق ہے۔برطانوی حکومت کے وکیل جیمز ایڈی نے عدالت میں جمع کرائے گئے تحریری نوٹ میں کہا کہ [شمیمہ] بیگم نے خود کو ’آئی ایس آئی ایس‘ سے جوڑ لیا تھا اور وہ چار سال سے شام میں مقیم تھیں۔
انہوں نے عندیہ ظاہر کیا کہ اس نے داعش کا علاقہ صرف اس وقت ساتھ چھوڑا جب خلافت کا خاتمہ ہوا، مزید کہا کہ اس وقت بھی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ صرف حفاظت سے باہر نکلی تھی نہ کہ گروپ کے ساتھ حقیقی ٹوٹنے کی وجہ سے۔قابل ذکر ہے کہ شمیمہ بیگم نے 2015 میں لندن چھوڑا جب وہ 15 سال کی تھیں اور اپنی ایک دوست کے ہمراہ وہ ترکی پہنچیں، جہاں سے انہیں شام پہنچایا گیا گیا شام میں وہ داعش میں شامل ہوئیں اور ایک جنگجو سے شادی کی اور تین بچوں کو جنم دیا۔ سبھی بچپن میں ہی مر گئے۔
جب کہ برطانوی حکومت نے 2019 میں قومی سلامتی کی بنیاد پر اس کی شہریت چھین لی تھی۔ اس کے بعد وہ شام کے ایک حراستی کیمپ میں پائی گئی ہیں۔شمیمہ بیگم جو اب 23 سال کی ہیں اسپیشل امیگریشن اپیل کمیشن کے سامنے پانچ روزہ سماعتوں میں فیصلے کے خلاف اپیل کر رہی ہیں جو ایک خصوصی عدالت ہے جو قومی سلامتی کی بنیاد پر شہریت ختم کرنے کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرتی ہے۔



