مقبوضہ بیت المقدس،20مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسرائیل میں ہر چند ماہ بعد نئے انتخابات کی روش پھر سے سر اٹھا رہی ہے۔ کل جمعرات کے روز کمزور حکومتی اتحاد کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب خاتون رکن پارلیمنٹ غیدا ریناوی زعبی Ghaida Rinawie Zoabi نے استعفیٰ دے دیا۔ ان کا تعلق بائیں بازو کی جماعت میرٹس سے ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق زعبی نے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور وزیر خارجہ یائر لیپڈ کو بھیجے گئے خط میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ حکومت میں دائیں بازو کا حلقہ مضبوط ہو رہا ہے۔تاہم زعبی کے مطابق ان کے مستعفی ہونے کا قوی ترین سبب حکومتی اتحاد میں شامل سربراہان کا عرب سماج کے حوالے سے اہم معاملات پر سخت گیر موقف اپنانا ہے۔
بالخصوص مسجد اقصیٰ کے حرم قدسی میں سامنے آنے والے مناظر جن میں اسرائیلی پولیس اہل کار رمضان میں نمازیوں کے مقابل کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس کے بعد خاتون صحافی شیرین ابو عاقلہ کی ہلاکت ہوئی۔ زعبی کا کہنا ہے کہ وہ اس صورت حال میں کام جاری نہیں رکھ سکتی ہیں۔یاد رہے کہ 11 ماہ قبل 8 جماعتوں کے اتحاد سے اسرائیلی حکومت تشکیل دی گئی تھی۔ اتحاد میں دائیں بازو کی ، بائیں بازو کی ، اعتدال پسند اور اسلامی جماعتیں شامل ہیں۔ اس سے قبل اسرائیل میں 3 برس کے دوران میں 4 بار انتخابات کا اجرا دیکھا گیا تھا۔
حکومتی اتحاد کو پارلیمنٹ میں معمولی سی اکثریت حاصل ہے۔ اس اتحاد کے پیچھے صرف ایک موقف تھا اور وہ یہ کہ بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو گرانا تھا۔ نیتن یاہو کو عدالت میں رشوت ستانی اور بدعنوانی کے الزامات کا سامنا تھا۔زعبی سے قبل اپریل میں دائیں بازو کی مذہب پسند یہودی خاتون رکن پارلیمنٹ عیدیت سلیمان نے پارلیمنٹ سے استعفا دے دیا تھا۔ ان کا تعلق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت یمینا سے ہے،عیدیت نے یہودی تہوار کے دوران میں ہسپتالوں میں روٹی داخل کرنے کے فیصلے پر احتجاجاً استعفیٰ دیا۔



