ادیس ابابا ،7فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں آفریقی یونین کے سربراہی اجلاس میں اسرائیل کو مبصر کا درجہ دینے کے آفریقی یونین کمیشن کے چیئرپرسن موسی فقی کے فیصلے کو متفقہ طور پر معطل کر دیا گیا۔
آفریقی یونین میں اسرائیل کی مداخلت کی کوشش ناکام ہونے کو اسرائیلی ریاست کی شرمناک شکست قرار دیا جا رہا ہے۔الجزائر کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس سمٹ نے سات سربراہان مملکت پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون بھی شامل ہیں، جو اس مسئلے پر یورپی یونین کے سربراہی اجلاس کو سفارشات پیش کرے گی۔
الجزائر کی کوششیں اور دباؤ کامیاب ہوا، کئی افریقی ممالک جن میں جنوبی افریقہ اور عرب ممالک جیسے مصر اور تونس اسرائیل کو یونین سے ایک مبصر کے طور پر رکنیت سے نکالنے میں کامیاب رہے۔ دو روز قبل شروع ہونے والے اجلاس میں علاقائی سلامتی، افریقی خطے میں بغاوتوں، کرونا وائرس اور اسرائیل کی یونین میں مبصر رکن کے معاملے پر بحث شروع ہوئی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ اسرائیل کو افریقی یونین کے مبصر رکن کے طور پر قبول کرنے کا منصوبہ حزب اختلاف اور حامی ممالک کے درمیان پھوٹ کا باعث بنا۔آفریقی یونین کمیشن نے 35ویں سربراہی اجلاس کے لیے انتخاب کیا جو کل منعقد ہوا۔اس سمٹ میں سینگال کی جانب سے یونین کی صدارت کے حوالے پر بات کی گئی۔
اس میں یونین کے ادارہ جاتی اصلاحات، آفریقہ میں کورونا کی وبائی صورتحال، اور آفریقی ممالک میں آئینی راستوں اور انتخابات کو مضبوط بنانے کے امور پر غور کیا جائے گا۔



