
قنوج: کلاس روم میں اساتذہ کی مبینہ رومانس ویڈیو وائرل، نوٹس جاری
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی، محکمہ تعلیم نے تحقیقات شروع کرتے ہوئے متعلقہ استاد سے وضاحت طلب کر لی۔
قنوج:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اتر پردیش کے ضلع قنوج کے ایک سرکاری پرائمری اسکول سے منسوب اساتذہ کے مبینہ رومانس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے کے بعد محکمہ تعلیم میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ویڈیو میں ایک مرد اور ایک خاتون ٹیچر کو اسکول کے کلاس روم میں ایک دوسرے کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، اس ویڈیو کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق یہ ویڈیو قنوج کے سوریخ علاقے کے ایک سرکاری پرائمری اسکول کی بتائی جا رہی ہے۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مختلف پلیٹ فارمز پر تیزی سے شیئر کی گئی، جس کے باعث مقامی سطح پر بھی اس معاملے پر بحث شروع ہو گئی۔
رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ ویڈیو مرد ٹیچر کی اہلیہ نے سوشل میڈیا پر وائرل کی۔ بتایا جاتا ہے کہ مرد ٹیچر اور اس کی اہلیہ کے درمیان گزشتہ چار برس سے خاندانی تنازع چل رہا ہے اور معاملہ فیملی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی بھی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
ذرائع کے مطابق وائرل ہونے والی ویڈیو حالیہ نہیں بلکہ پرانی بتائی جا رہی ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ویڈیو کب ریکارڈ کی گئی، کس نے بنائی اور کس نے اسے سوشل میڈیا پر جاری کیا۔ متعلقہ حکام ان تمام پہلوؤں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اسکول انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ مرد ٹیچر کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ ہیڈ ماسٹر نے واقعے سے متعلق وضاحت طلب کرتے ہوئے پورا معاملہ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کے علم میں بھی لا دیا ہے۔
محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد ہی محکمانہ ضابطوں کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے گی۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ فی الحال ویڈیو کی صداقت یا اس میں کیے گئے دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔



